بنگلورو، 16/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عام شہریوں کی زندگی پر منفی اثر پڑے گا اور مہنگائی مزید بڑھ جائے گی۔
بنگلورو میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد ہی یہ اندازہ تھا کہ مرکزی حکومت ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی اور اب اسی توقع کے مطابق قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں دیگر کئی ریاستوں کے مقابلہ پٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں کئی مرتبہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس قیمت اضافہ کا سب سے زیادہ اثر مزدوروں، کسانوں اور غریب عوام پر پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت اس فیصلے کی سخت مذمت کرتی ہے اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔
سدارامیا نے کہا کہ مہنگائی کے سبب روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت تقریباً چار سو تیرہ روپے تھی، جو اب ایک ہزار روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے درمیان قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کی زندگی کو مزید دشوار بنادے گا۔
نیٹ یو جی امتحان کے تعلق سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت امتحان کے مؤثر انعقاد میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث لاکھوں طلبہ کے مستقبل پر منفی اثر پڑا ہے۔
انہوں نے کرناٹک میں خصوصی نظرثانی مہم کے آغاز کے حوالے سے بتایا کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر کا عمل شروع کر رہا ہے اور ریاستی حکومت اس کی تیاریوں میں مصروف ہے۔