ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کمال مولیٰ مسجد کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دے دیا، مسلم فریق کے تاریخی شواہد مسترد

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کمال مولیٰ مسجد کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دے دیا، مسلم فریق کے تاریخی شواہد مسترد

Sat, 16 May 2026 11:49:06    S O News

بھوپال، 16/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے تمام پیش کیے گئے ثبوت، دستاویزات اور تاریخی شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے دھار ضلع میں موجود بھوج شالہ کی کمال مولیٰ مسجد کو ہندو دیوی سرسوتی کے مندر کے طور پر تسلیم کر دیا۔

۱۱؍ویں صدی کی اس یادگار کے بارے میں مسلم فریق نے ناقابل تردید تاریخی شواہد اور دلائل پیش کئے تھے لیکن ایم پی ہائی کورٹ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل بنچ نے ایودھیا جیسے فیصلہ کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہندو فرنٹ فار جسٹس اور دیگر کی طرف سے دائر درخواستوں کو تسلیم کر لیا اور اس مقام کو مندر قرار دے دیا۔

عدالت نے ۲۰۰۳ء میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی طرف سے جاری کردہ اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا جس میں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے بابری مسجد فیصلہ کی نقل کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ مسلمان دھار میں کسی اور مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے زمین الاٹ کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں جس پر حکومت غور کر سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کمال مولیٰ مسجد ۱۱؍ویں صدی کی یادگار ہے جو کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی نگرانی میں ہے۔ ۲۰۰۳ء میں اے ایس آئی نے یہاں ایک انتظام کیا تھا جس کے تحت ہندو برادری کو منگل کے دن پوجا کرنے کی اجازت تھی جبکہ مسلم کمیونٹی کو جمعہ کے دن نماز پڑھنے کی اجازت تھی۔

تاہم ہندو برادری نے پورے مقام پر دعویٰ کرتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور مسلمانوں کو وہاں نماز پڑھنے کی اجازت دینے سے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر ہائی کورٹ نے اس جگہ کے سائنسی سروے کا حکم دیا تھا، جسے مسلم کمیونٹی کی اپیل کے بعد سپریم کورٹ نے عارضی طور پر روک دیا تھا۔ بعد ازاں، سپریم کورٹ نے سروے رپورٹ کو سیل کرنے، فریقین کو کاپیاں فراہم کرنے اور حتمی سماعت پر ان کے اعتراضات پر غور کرنے کی ہائی کورٹ کو ہدایت دی تھی۔

مسلمانوں نے دلیل دی تھی کہ خلجی دور کے تاریخی ریکارڈ اور معاصر دستاویز میں دھار میں کسی سرسوتی مندر کی تباہی کا ذکر نہیں ہے۔ مسلمانوں نے دھار ریاست کی طرف سے جاری اس گزٹ نوٹیفیکیشن کو بھی پیش کیا جس میں دھار کے حکمراں نے مسلمانوں کو اس مقام پر نماز کی اجازت دی تھی۔ یہ نوٹیفیکیشن ۱۹۳۵ء میں جاری کیا گیا تھا، لیکن مرکزی حکومت نے اس نوٹیفیکیشن کے جواز پر سوال اٹھایا تھا۔

مسلمانوں کی طرف سے یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس گزٹ نوٹیفیکیشن کو کبھی بھی حکومت نے کالعدم یا منسوخ نہیں کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ ہم نے اس جگہ پر ہندو عبادت کے تسلسل کو نوٹ کیا، اگرچہ وقتاً فوقتاً اس کو ضابطہ کے تحت لایا گیا ہے۔

اس جگہ کے تاریخی لٹریچر کے مطابق یہ مقام راج بھوج سے منسلک اور سنسکرت سیکھنے کے ایک مرکز کے طور پر قائم ہے۔ یہ دھار میں دیوی سرسوستی کے لیے وقف مندر کے وجود کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس نے دعویٰ کیا کہ محکمۂ آثار قدیمہ کا سائنسی طریق تفتیش ناقص تھا اور فریق مخالف کے دعوے کو تقویت عطا کرنے والا تھا۔ مسلم فریق نے ۱۹۳۵ء کے گزٹ پر زیادہ انحصار کیا جو اُس وقت کے صوبہ دھار انتظامیہ نے جاری کیا تھا۔ اس گزٹ نے عمارت کو مسجد تسلیم کیا اور مسلمانوں کے نماز ادا کرنے کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی اور دیگر نے یہ دلیل بھی دی کہ کمال مولیٰ مسجد میں ۴۰۰؍ سال سے زائد عرصہ تک نماز ادا کی گئی اور اس کی حیثیت کو تبدیل کرنا مذہبی استعمال کی خلاف ورزی ہوگی۔ یہ بھی کہا کہ احاطے میں پانی کا جو ٹینک ہے وہ مصلیان کے وضو کیلئے بنایا گیا تھا۔

اس نے دعویٰ کیا کہ اصلاً یہ مندر اور سنسکرت پاٹھ شالہ تھی جسے راجہ بھوج نے تعمیر کیا تھا۔ ہندو فریق نے زیادہ تر دلائل محکمۂ آثار قدیمہ کی ۲؍ ہزار صفحات کی رپورٹ سے اخذ کئے جس میں کندہ کاری کا حوالہ دیا گیا نیز بتایا گیا تھا کہ یہاں سے ۹۷؍ ہندو مورتیاں، سکے، اور ستون برآمد کئے گئے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ  ہندوؤں کا مندر ہونے کا ثبوت تاریخی تسلسل سے بھی ملتا ہےنیز اس عمارت کو کبھی بھی قانونی اور مذہبی طور پر ترک نہیں کیا گیا۔ تاہم اس نے ۲۰۰۳ء کے ایڈمنسٹریٹیو آرڈر کو امتیازی بھی بتایا اور کہا کہ اس نے روزانہ پوجا کا سلسلہ ختم کرکے ہفتے میں صرف ایک دن (منگل) کی قید لگا دی تھی۔

۷۰۴ھ، مطابق ۱۲۰۵ء میں سلطان علاؤ الدین خلجی نے جب مالوہ فتح کیا اس وقت حضرت کمال (مولانا کمال الدین چشتیؒ) کا یہاں قیام تھا۔ سلطان شیخ کے ارادت مندوں میں تھا۔ اس نے اپنی فتح کی خوشی میں اس مقام پر ایک عالی شان مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جو دو سال کی مدت میں ۷۰۶ھ مطابق ۱۲۰۷ء میں بن کر تیار ہوئی۔ پھر دلاور غوری نے، جو اُس وقت مالوہ کا صوبیدار تھا،  ۹۳۔۱۲۹۲ء میں اس کی مرمت کروائی۔ ہندو مورخ اور دھار کے ہندو عوام اس جامع مسجد کو بھوج شالہ کا نام دیتے ہیں۔ دھار میونسپلٹی نے بھی بھوج شالہ کی تختی لگا رکھی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ راجہ بھوج کی سنسکرت کی پاٹھ شالہ تھی جس کو مسلمان بادشاہوں نے مسجد بنادیا۔

ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے ایودھیا فیصلہ کا چربہ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ یہ حق طے کرے گا اور اس حکم کو کالعدم قرار دے گا ۔ یہ بابری مسجد کے فیصلے سے واضح مماثلت رکھتا ہے۔‘‘

مسلمانوں اور ہندوؤں کے علاوہ اس تاریخی عمارت پر، جو کمال مولیٰ مسجد سے مشہور رہی، جین مذہب کے پیروکاروں کا بھی دعویٰ تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہاں ملنے والی مورتیوں میں ایک اُن کی دیوی امبیکا کی مورتی ہے جو کہ ماؤنٹ آبو کے مندر سے مشابہ ہے۔اس سلسلے کی مزید معلومات نہیں مل سکی۔  


Share: