بنگلورو، 25/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک حکومت نے درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے اندرونی ریزرویشن کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے مختلف ذیلی طبقات کے درمیان ریزرویشن کی نئی تقسیم کو منظوری دے دی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے آج شام کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اس فیصلے کی تفصیلات پیش کیں۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے متفقہ طور پر درج فہرست ذاتوں کے اندرونی طبقات میں ریزرویشن کو ازسرِ نو منظم کرتے ہوئے بائیں ہاتھ (Left) طبقات کے لیے 5.25 فیصد، دائیں ہاتھ (Right) طبقات کے لیے 5.25 فیصد اور دیگر برادریوں کے لیے 4.5 فیصد ریزرویشن مقرر کیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کے مطابق یہ فیصلہ ہائی کورٹ کی جانب سے ریزرویشن کی مجموعی حد 50 فیصد تک محدود رکھنے کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس کے تحت درج فہرست ذاتوں کو مجموعی طور پر 15 فیصد اور درج فہرست قبائل (ST) کو 3 فیصد ریزرویشن برقرار رکھا گیا ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ اس اقدام سے تمام طبقات کو مساوی انصاف فراہم ہوگا اور سرکاری تقرریوں میں اسی فارمولے کے تحت اندرونی ریزرویشن نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کی حتمی ہدایت آنے تک بعض ریزرویشن کو بیک لاگ کے طور پر تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اندرونی ریزرویشن کا معاملہ طویل عرصے سے زیر بحث تھا اور مختلف تنظیموں کی جدوجہد کے بعد حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس ضمن میں جسٹس ناگموہن داس کی سربراہی میں قائم کمیشن کی سفارشات اور سپریم کورٹ کی ہدایات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے پہلے 6:6:5 کے تناسب سے ریزرویشن کا منصوبہ تیار کیا تھا، تاہم عدالت کی 50 فیصد حد کے پیش نظر اب اسے تبدیل کرکے 5.25:5.25:4.5 کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 59 خانہ بدوش (Nomadic) برادریوں کو بھی مناسب حصہ دیا گیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ریاست میں جلد ہی 56,432 سرکاری اسامیوں کو پُر کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس کے لیے جلد نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ تقرریوں میں ریزرویشن کے نئے اصولوں پر عمل کیا جائے گا۔ سدارامیا نے کہا کہ حکومت "سب کے لیے مساوی حصہ، سب کے لیے مساوی مواقع" کے اصول پر کاربند ہے اور امید ظاہر کی کہ دلت تنظیمیں اور دیگر طبقات اس فیصلے کا خیرمقدم کریں گے۔