نئی دہلی/بنگلورو، 16 جون (ایس او نیوز): مرکزی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں مکمل مردم شماری 2026–27 کے دوران دو مراحل میں کرانے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت کے مطابق 2011 کے بعد یہ پہلی مکمل مردم شماری ہوگی، جسے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر ڈیجیٹل فارمیٹ میں انجام دیا جائے گا۔
اعلان کے مطابق مردم شماری کا پہلا مرحلہ "ہاؤس لسٹنگ آپریشن" کہلاتا ہے، جو یکم اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا۔ اس مرحلے میں ہر گھر کی جائیداد، آمدنی، رہائشی سہولیات، بجلی، پانی، انٹرنیٹ، بیت الخلاء اور دیگر بنیادی ضروریات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔ دوسرا مرحلہ، جو "آبادی شماری" پر مبنی ہوگا، یکم مارچ 2027 کو انجام پائے گا، جس میں شہریوں کی عمر، جنس، مذہب، زبان، تعلیم، ملازمت، ازدواجی حیثیت اور ثقافتی پس منظر سے متعلق تفصیلات جمع کی جائیں گی۔
اس مردم شماری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد پہلی بار ذات (کاسٹ) پر مبنی تفصیلی معلومات بھی جمع کی جائیں گی۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اپریل 2025 میں اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی تھی کہ آئندہ مردم شماری میں ذات کی تفصیلات کو شامل کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مردم شماری کئی آئینی اور سیاسی فیصلوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔ خاص طور پر خواتین ریزرویشن بل، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مختص کی جائیں گی، اس مردم شماری اور اس کے بعد کی حلقہ بندی پر ہی منحصر ہے۔ یاد رہے کہ 1976 میں آئینی ترمیم کے ذریعے حلقہ بندی پر پابندی عائد کی گئی تھی، جسے بعد میں 2001 کی 84ویں ترمیم کے ذریعے جزوی طور پر نرم کیا گیا، لیکن اس میں نشستوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
اب 2026–27 کی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی کی راہ ہموار ہوگی، جس سے انتخابی نقشے میں بھی بڑی تبدیلی ممکن ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے تمام مراحل میں ڈیجیٹل شرکت کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ ہر شہری بآسانی اپنی معلومات آن لائن درج کر سکے۔
یہ مردم شماری تکنیکی، سماجی اور آئینی اعتبار سے ملک کی تاریخ کی ایک منفرد کوشش ثابت ہوگی، جو نہ صرف آبادی کا جامع ریکارڈ فراہم کرے گی بلکہ مستقبل کی پالیسی سازی میں بھی مرکزی کردار ادا کرے گی۔