ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / داونگیرے ضمنی انتخاب: چار شرائط پر شامنور خاندان کو ٹکٹ، مسلم قیادت کو ہائی کمان کی یقین دہانی

داونگیرے ضمنی انتخاب: چار شرائط پر شامنور خاندان کو ٹکٹ، مسلم قیادت کو ہائی کمان کی یقین دہانی

Mon, 23 Mar 2026 06:48:19    S O News
داونگیرے ضمنی انتخاب: چار شرائط پر شامنور خاندان کو ٹکٹ، مسلم قیادت کو ہائی کمان کی یقین دہانی

بنگلورو/داونگیرے 23/ مارچ (ایس او نیوز): کرناٹک کے داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کو لے کر کانگریس میں جاری رسہ کشی کے درمیان بالآخر شامنور شیو شنکرپا خاندان کے حق میں ٹکٹ دینے پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم مسلم قیادت نے اس فیصلے کے لیے چار اہم شرائط عائد کی تھیں، جنہیں پارٹی ہائی کمان کی جانب سے پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

معروف کنڑا روزنامہ وجے کرناٹک کی رورٹ  کے مطابق، ہفتہ کی دیر رات بنگلورو کے ایک نجی ہوٹل میں وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور اے آئی سی سی کے کرناٹک انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے مسلم رہنماؤں کے ساتھ طویل مشاورت کی۔ اس اہم اجلاس میں وزیر ضمیر احمد خان سمیت متعدد مسلم وزراء، ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے اراکین شریک ہوئے۔

داونگیرے جنوبی حلقہ کے ٹکٹ کو لے کر کانگریس کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ ایک جانب ایس ایس ملیکارجن اپنے بیٹے کے لیے ٹکٹ کے خواہاں تھے، جبکہ دوسری جانب وزیر ضمیر احمد خان اور دیگر مسلم قائدین عبدالجبّار یا کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کے لیے ہائی کمان پر دباؤ ڈال رہے تھے۔

جب معاملہ شدت اختیار کر گیا تو اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری و کرناٹک انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا دہلی سے بنگلورو پہنچے اور امیدوار کے حتمی انتخاب کے لیے نجی ہوٹل میں مسلسل اجلاس منعقد کیے، جن میں مسلم رہنماؤں اور ایس ایس ملیکارجن سے الگ الگ بات چیت کی گئی۔

اہم اجلاس میں کئی سرکردہ قائدین کی شرکت:

مسلم رہنماؤں کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، اے آئی سی سی سکریٹری ابھیشیک دت کے علاوہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وزیر ضمیر احمد خان، ایم ایل اے رضوان ارشد، این اے حارث، نصیر احمد، قانون ساز کونسل کے چیف وہپ سلیم احمد، وزیر رحیم خان، راجیہ سبھا رکن سید ناصر حسین اور دیگر قائدین موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت اور پارٹی میں مسلم طبقہ کو مناسب نمائندگی دینے کی یقین دہانی کے بعد مسلم رہنماؤں نے شامنور خاندان کے حق میں ٹکٹ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی۔

مسلم قیادت کی چار اہم شرائط:

آئندہ جون میں سبکدوش ہونے والے تقریباً 12 قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی نشستوں میں مسلم رہنماؤں کو ترجیح دی جائے۔

آنے والے راجیہ سبھا انتخابات میں مسلم لیڈروں کو موقع فراہم کیا جائے۔

سرکاری کارپوریشنز اور بورڈز میں اقلیتوں کو زیادہ نمائندگی دی جائے۔

آئندہ کابینہ کی تشکیلِ نو کے دوران مسلم وزراء کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

مسلم ووٹوں کا کردار اہم:

داونگیرے جنوبی حلقہ میں مسلم ووٹروں کی تعداد 75 ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہے۔ مقامی مسلم رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر ٹکٹ شامنور خاندان کے بجائے کسی ایس سی، ایس ٹی یا دیگر پسماندہ طبقہ کے امیدوار کو دیا جاتا تب بھی وہ کانگریس کی جیت کو یقینی بناتے۔

تاہم اب جبکہ ہائی کمان نے سمجھوتہ کر لیا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ حلقہ کے اقلیتی ووٹر شامنور خاندان کی حمایت کرتے ہیں یا اس فیصلے کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔


Share: