ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / میسور کے اُدے گیری میں سوشیل میڈیا پوسٹ کے بعد پُرتشدد جھڑپیں؛ پتھراو کے بعد پولس لاٹھی چارج

میسور کے اُدے گیری میں سوشیل میڈیا پوسٹ کے بعد پُرتشدد جھڑپیں؛ پتھراو کے بعد پولس لاٹھی چارج

Tue, 11 Feb 2025 18:51:23    S O News
میسور کے اُدے گیری میں سوشیل میڈیا پوسٹ کے بعد پُرتشدد جھڑپیں؛ پتھراو کے بعد پولس لاٹھی چارج

میسور11/فروری (ایس او نیوز): کرناٹک کے ضلع میسور کے اُدے گیری علاقے میں اُس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد عوام نے اشتعال انگیز تبصرے کرنے والے ملزم کی فوری گرفتاری اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم، بعد میں مظاہرین کے ایک گروہ میں سے کچھ افراد نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا، جس کے بعد احتجاج پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہوگیا۔ فی الحال علاقے میں حالات قابو میں ہیں اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

پتہ چلا ہے کہ عوامی غصے کے پیش نظر، اُدے گیری پولیس نے مبینہ طور پرمسلم کمیونٹی کے خلاف اشتعال انگیز پوسٹ کرنے والے 32 سالہ سریش نامی شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ واقعہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پیش آیا، جس میں مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے تبصرے شامل تھے۔ اس پوسٹ میں راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور اروند کیجریوال کی ننگی تصویر پر سبحان اللہ، الحمدوللہ، ماشاء اللہ وغیرہ لکھا گیا تھا۔ ایڈیٹ شدہ تصاویر کے ساتھ اس طرح کی اسکرپٹ  کے بعد نوجوانوں کاایک ہجوم پیر کی شب اُدے گیری پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگیا اور ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

بتایا جارہا ہے کہ صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب ہجوم نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کردیا۔ حالات کشیدہ ہونے پر مزید پولیس فورس تعینات کی گئی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ بعد میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل داغے۔ واردات کے بعد شانتی نگر مین روڈ اور مہادیو پورہ روڈ پر مظاہرین نے سڑک بلاک کر کے شدید غصے کا اظہار کیا۔

بتایا جارہا ہے کہ اس واقعہ کے بعد بی جے پی لیڈران حرکت میں آگئے۔ اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے منگل کو اُدے گیری پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا اورپولس پرمُبینہ طور پر حملہ کرنے والوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ شرپسندوں کے خلاف نرمی برت رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ پولیس پر حملہ ایک منظم سازش تھی۔ انہوں نے وزیر داخلہ جی پرمیشور کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کے رویے سے پولیس فورس کا حوصلہ پست ہو رہا ہے۔

ادھر، بی جے پی رہنماؤں نے سوشل میڈیا پربھی کانگریس حکومت پر تنقید کرنی شروع کردی اور الزام لگایا کہ انتظامیہ قصورواروں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ پرتاپ سِمھا، جو متاثرہ علاقے کا دورہ کرنا چاہتے تھے، انہیں پولیس نے روک دیا اور واپس بھیج دیا۔ تاہم، بعد میں وہ کیاتمارنہلی ہلیامہ مندر کے قریب مقامی رہائشیوں سے ملے، جہاں ان کے ساتھ شہر کے بی جے پی صدر ایل ناگیندرا اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

جواب میں، کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (KPCC) کے ترجمان لکشمن کی قیادت میں کانگریس وفد نے اُدے گیری پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا اور اس واقعے کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اس دوران اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب کانگریس رہنماؤں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ آر اشوک کو پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی جبکہ انہیں پہلے روکا گیا تھا۔ کانگریس رہنماؤں نے پولیس کی اس کارروائی کے خلاف دھرنا دیا۔

دیر رات ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے پولس اسٹیشن کے باہر ہنگامے کی اطلاع ملنے پر لاء اینڈ آرڈر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ADGP) ہتیندرا منگل کے روز اُدے گیری پولیس اسٹیشن پہنچے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے صورتحال سے آگاہی حاصل کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور پولس پر حملہ کرنے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

اے ڈی جی پی نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے یہ سوچ کر ہنگامہ کیا کہ توہین آمیز پوسٹ سوشیل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے میں ملزم کو فوری رہا کر دیا جائے گا۔ آگے بتایا کہ اس طرح کی افواہوں کی وجہ سے حالات کشیدہ ہو گئے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس واقعہ کے پیچھے کوئی تنظیم ہیں یا نہیں اور کون کون ملوث ہے اس کی چھان بین کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔

پولس حکام نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن پر حملے میں شامل افراد کی نشاندہی کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا جا رہا ہے


Share: