نئی دہلی، 2 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )دہلی ہائی کورٹ نے قومی فوڈسیکورٹی قانون کو نافذ کرنے کے لیے ہدایات دینے کا مطالبہ کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی پر دہلی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے نافذ ہونے سے یہاں کے آنگن باڑی مراکز اور اسکولی بچوں کی اچھی صحت کو یقینی بنایا جا سکے گا ۔ جسٹس جی روہنی اور جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل نے ایک چیرٹیبل ٹرسٹ کی اپیل پر دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ٹرسٹ نے الزام لگایا تھا کہ آنگن باڑی اور مڈڈے میل اسکیم کے تحت جو کھانا فراہم کرایا جا رہا ہے وہ ناقص ہے۔عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 19؍اکتوبر کو مقرر کی ہے۔مارت سدھا کے مطابق، دہلی میں خوراک اور فوڈسیکورٹی کے مسائل پر نگرانی اور مربوط کام کاج کا فقدان ہے جبکہ قومی خوارک تحفظ ایکٹ 2013کے تحت یہ ضروری ہے۔اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ دہلی حکومت ریاست، ضلع اور بلاک سطح پر ان سائنسی اسٹوریج ادارہ بنانے اور ان کا انتظام کرنے میں ناکام رہی ہے جو عوامی تقسیم کے نظام اور خوراک پر مبنی دیگر فلاحی منصوبوں کے تحت اناج رکھنے میں کافی ہوں۔مفاد عامہ کی یہ عرضی ایڈووکیٹ وکرم شریواستو کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔اس میں یہ بھی الزام لگایا ہے کہ جو کھانا فراہم کرایا جا رہا ہے وہ حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی ماؤں کے ساتھ ہی بچوں کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے یہ ہندوستان میں خواتین اور بچوں کی صحت کے بنیادی حقوق کی مکمل طورپر خلاف ورزی ہے۔