نئی دہلی ، 2/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا کو ایوان بالا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ پارٹی نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو خط بھی بھیجا ہے۔ اب اشوک متل راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ہوں گے۔ خط کے ذریعہ عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو مطلع کیا ہے کہ ایم پی راگھو چڈھا کو پارلیمنٹ میں بولنے کے لیے وقت نہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو پیش کردہ خط میں ایم پی اشوک متل کو پارٹی کا ڈپٹی لیڈر مقرر کرنے کی درخواست کی ہے۔
تازہ معاملہ راگھو چڈھا کے لیے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ کیونکہ عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ سے درخواست کی ہے کہ راگھو چڈھا کو پارٹی لیڈر کے طور پر ایوان میں بولنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ راجیہ سبھا میں ان کے بولنے کے وقت پر بھی قینچی چلے گی۔ اس تازہ واقعہ کے سلسلے میں ذرائع کی مانیں تو راگھو چڈھا کو پارلیمنٹ کی طرف سے دیئے گئے وقت میں بھی کٹوتی ہونے والی ہے۔ غور طلب ہے کہ کچھ عرصہ سے راگھو چڈھا پارلیمنٹ میں عوامی مسائل زوردار طریقے سے اُٹھارہے تھے۔ جن میں ہوائی اڈوں پر 10 روپے کی چائے سے لے کر ڈیلیوری بوائز، موبائل ریچارج کے معاملے شامل ہیں۔ اب ان پر عام آدمی پارٹی کی کارروائی سے لوگ حیران نظر آرہے ہیں۔
ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ راگھو چڈھا پارٹی سے مشورہ کیے بغیر کچھ مسائل اُٹھا رہے تھے۔ وہ راجیہ سبھا میں کن مسائل پر بات رکھنے والے ہیں، اس کے بارے میں بھی پارٹی کو نہیں بتاتے تھے۔ عام آدمی پارٹی نے اس سلسلے میں انہیں خبردار بھی کیا تھا۔ حالانکہ پارٹی کی جانب سے ابھی تک ان کے خلاف کی گئی کارروائی کی وجوہات واضح نہیں کی گئی ہیں، لیکن پارٹی کے اس فیصلہ کے پیچھے ڈسپلن شکنی اور پارٹی لائن کے تحت کام نہ کرنا بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں طویل عرصے سے اس طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ راگھو چڈھا عام آدمی پارٹی کی لائن کے خلاف بات کرتے ہیں۔ مزید برآں حال ہی میں جب عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کو شراب اسکینڈل کیس میں راؤس ایونیو کورٹ نے بری کر دیا تھا، راگھو چڈھا نے کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔