نئی دہلی ، 2/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار 10 اپریل کو راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف لیں گے۔ ذرائع کے مطابق وہ 9 اپریل کو دہلی پہنچیں گے۔ انہیں راجیہ سبھا کے چیئرمین کے چیمبرمیں حلف دلایا جائے گا۔ اس کے بعد وہ پٹنہ واپس جائیں گے اور وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیں گے۔ اس صورتحال میں بہار میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل 14 اپریل کو ’خرماس‘ ختم ہونے کے بعد شروع ہوگا۔
واضح رہے کہ نتیش کمار نے حال ہی میں قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ تقریباً 20 سال تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر رہنے والے نتیش 2006 سے لگاتار قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) رہے۔ ان کے استعفیٰ نے ریاست کی سیاست میں کھلبلی مچادی تھی۔ اس کے بعد سے ہی بہار میں نئی حکومت کب بنے گی اور وہ کب وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیں گے، اس بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں تھیں۔
قواعد کے مطابق اگر کوئی شخص راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوتا ہے تو اسے 14 دنوں کے اندراسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینا ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو اس کی راجیہ سبھا کی رکنیت ختم ہو سکتی ہے۔ نتیش کے اگلے قدم کو لے کر ابھی بھی قیاس آرائیاں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ مگر اس دوران جو خبریں سامنے آئی ہیں ان کے مطابق نتیش راجیہ سبھا کا حلف لینے کے بعد وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دے سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بہار میں ’خرماس‘ کے بعد نئی حکومت بن سکتی ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ نتیش کمار کی جگہ بہار کا اگلا وزیر اعلی کون بنے گا؟
اس سوال کے جواب میں جے ڈی یو لیڈروں نے واضح طور پر کہا ہے کہ بہار میں نتیش کی پسند کا وزیر اعلیٰ ہونا چاہئے، جو نتیش کی وراثت کو آگے بڑھا سکے، ان کے سیاسی انداز کو بھی برقرار رکھے جو ان کے بیٹے نشانک کو بھی ساتھ لے کر چلے۔ اس کے علاوہ کابینہ کے فارمولے میں بھی تبدیلی کا قوی امکان ہے۔ نتیش نے پہلی بار 2005 میں بہار کے وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا اور تب سے وہ کئی بار اس عہدے پر رہ چکے ہیں۔
حالانکہ اس دوران یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مجوزہ ’سمردھی یاترا‘ کے دوران نتیش کئی پلیٹ فارموں سے لگاتار بی جے پی لیڈرسمراٹ چودھری کو اپنا جانشین بتارہے تھے۔ وہ انہیں عوام کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ راجیہ سبھا انتخابات کے بعد بھی نتیش نے سمراٹ چودھری سے اقتبال کروایا تھا۔ بہار کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا یہ سوال بڑا اہم ہے کیونکہ اس میں نتیش کی پسند اور بی جے پی کی حکمت عملی دونوں کا امتحان ہوگا۔