ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے باگلکوٹ میں “طلبہ ووٹرز” پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا؛ بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے، تحقیقات کا مطالبہ

کرناٹک کے باگلکوٹ میں “طلبہ ووٹرز” پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا؛ بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے، تحقیقات کا مطالبہ

Thu, 02 Apr 2026 21:00:06    S O News
کرناٹک کے باگلکوٹ میں “طلبہ ووٹرز” پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا؛ بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے، تحقیقات کا مطالبہ

باگلکوٹ، 2 اپریل (ایس او نیوز): کرناٹک کے ضلع باگلکوٹ میں طلبہ کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کو لے کر ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس پر ریاست کی دو بڑی جماعتیں، بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور کانگریس، آمنے سامنے آ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب یہ الزام سامنے آیا کہ دیگر اضلاع سے تعلیم کے لیے باگلکوٹ آنے والے طلبہ کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ عمل انتخابی قواعد کے مطابق ہے یا نہیں۔

تنازعہ کی اصل وجہ کیا ہے؟

رپورٹس کے مطابق، نجی ہاسٹلوں اور تعلیمی اداروں میں رہنے والے طلبہ کے نام ووٹر لسٹ میں درج کیے گئے ہیں، حالانکہ ان کا مستقل پتہ باگلکوٹ نہیں ہے۔

اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ عمل “غیر قانونی” طریقے سے کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، آنے والے انتخابی عمل کے پیش نظر یہ معاملہ خاصا حساس ہو گیا ہے۔

کانگریس کا مؤقف:

کانگریس نے اس معاملے کو “سنگین بے ضابطگی” قرار دیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے، جبکہ پارٹی نے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ ووٹر لسٹ میں ممکنہ “ہیرا پھیری” کا معاملہ ہو سکتا ہے۔

بی جے پی کا مؤقف:

بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس عمل کا دفاع کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، طلبہ جہاں رہائش پذیر ہوتے ہیں، وہاں ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں اور یہ ان کا آئینی حق ہے۔ بی جے پی نے کانگریس کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمت ہے تو طلبہ کو ووٹنگ سے روک کر دکھائیں۔

اہم قانونی و آئینی سوالات

یہ تنازعہ کئی اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے عوام کا سوال ہے کہ کیا عارضی طور پر رہنے والے طلبہ کو مقامی ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ عمل انتخابی قواعد کے مطابق ہے؟ کیا اس سے انتخابی نتائج متاثر ہو سکتے ہیں؟ جبکہ ماہرین کے مطابق، یہ معاملہ الیکشن کمیشن کی گائیڈ لائنز اور متعلقہ قوانین سے جڑا ہوا ہے۔

انتخابی کمیشن کی ممکنہ کارروائی

ذرائع کی رپورٹس کے مطابق، اس معاملے پر الیکشن کمیشن سے تحقیقات کی توقع کی جا رہی ہے۔

اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو ووٹر لسٹ میں ترمیم کی جا سکتی ہے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی بھی ممکن ہے

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی شکایات سامنے آئی تھیں کہ دیگر اضلاع کے طلبہ کو غیر قانونی طور پر ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ کو باضابطہ شکایت بھی دی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، باگلکوٹ میں “طلبہ ووٹرز” کا معاملہ اب ایک بڑا سیاسی اور انتخابی تنازع بن چکا ہے، جس میں قانونی پہلو، انتخابی شفافیت اور طلبہ کے ووٹنگ حقوق سبھی سوالات کے دائرے میں آ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ ہوئی تو یہ تنازع آنے والے انتخابات کو متاثر کر سکتا ہے اور ریاستی سیاست میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔


Share: