نئی دہلی 2/اپریل (ایس او نیوز): سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے معاملے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ ووٹر لسٹ سے کسی شہری کا نام خارج ہونا اس کے ووٹ دینے کے حق کو مستقل طور پر ختم نہیں کرتا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، عدالت نے کہا کہ وہ ووٹرز جن کے نام SIR کے دوران فہرست سے خارج کیے گئے اور جو اسمبلی انتخابات سے قبل ضمنی فہرستوں میں اپنا نام شامل نہیں کرا سکے، ان کے حقوق “ہمیشہ کیلئے ختم” نہیں ہوتے۔
چیف جسٹس سوریا کانتھ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے یہ مشاہدہ اس وقت کیا جب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے خارج شدہ افراد کی اپیلوں کی سماعت کیلئے 19 ٹریبونلز کے قیام کی اطلاع دی گئی۔
بنچ میں شامل جسٹس جوئے مالیا باغچی (Joymalya Bagchi) نے کہا کہ SIR کے تحت جانچ اور اپیل کے عمل کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے، بصورت دیگر صورتحال “انتہائی جابرانہ” ہو سکتی ہے۔
عدالت نے کلکتہ ہائی کورٹ کی ایک اطلاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 60 لاکھ دعووں میں سے 47 لاکھ سے زیادہ نمٹائے جا چکے ہیں، جبکہ باقی معاملات 7 اپریل تک نمٹائے جانے کی توقع ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اپیلوں کی سماعت اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہے کہ جن افراد کو غلط طور پر فہرست سے خارج کیا گیا ہے، انہیں انصاف مل سکے۔
رپورٹس کے مطابق، سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اپیلوں کی سماعت کرنے والے ٹریبونلز نئے دستاویزات قبول کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تصدیق کی جائے، تاکہ دعویداروں کو مکمل موقع فراہم ہو سکے۔