ٹمکورو، 30 مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر صحت و خاندانی بہبود دنیش گنڈوراؤ نے کہا ہے کہ خدمت کا جذبہ ہی طبی پیشے کی اصل پہچان اور عظمت ہے۔ وہ ٹمکورو میں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن اور ہاسپٹل بورڈ آف انڈیا کے اشتراک سے منعقدہ نیشنل کانفرنس 2026 سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کا پیشہ نہایت مقدس ہے، اسی لیے بزرگوں نے کہا ہے ’’ویدیو ناراینو ہری‘‘۔ ڈاکٹر ہی مریضوں کو جسمانی و ذہنی تکالیف سے نجات دلا کر انہیں معمول کی زندگی کی طرف لوٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دولت یا دیگر مدد فراہم کی جا سکتی ہے، مگر حقیقی سکون اور زندگی بچانے کا کام صرف ڈاکٹر ہی انجام دے سکتے ہیں۔
وزیر صحت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ڈاکٹروں کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں بعض اوقات بغیر قصور کے بھی انہیں موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف قوانین اور رہنما اصولوں کے تحت کام کرنے کا دباؤ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی تجارتی سوچ بھی ایک مسئلہ بن رہی ہے، تاہم اس کے باوجود ڈاکٹروں کو انسانی ہمدردی کو مقدم رکھنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ غریب مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا ڈاکٹروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، کیونکہ خدمت کے جذبے کے بغیر اس پیشے کی عزت برقرار نہیں رہ سکتی۔
دنیش گنڈوراؤنے بتایا کہ حکومت نے ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جی پرمیشور کے ساتھ کئی اجلاس منعقد کر کے فائر لائسنس سے متعلق مسائل کا حل نکالا گیا ہے۔ اسی طرح کے پی ایم ای ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے کلینک کے قیام کے بعد چھ ماہ کے اندر دستاویزات جمع کرانے کی سہولت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجی اسپتالوں میں عام علاج کے مختلف نرخوں کے مسئلے پر حکومت انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ایک معیاری نظام وضع کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ عوام کو سہولت حاصل ہو۔
اس موقع پر جی پرمیشور، این ٹی سرینواس، جیوتی گنیش، دھننجے سرجی سمیت دیگر معززین اور آئی ایم اے کے عہدیداران موجود تھے۔