کاروار ،6 / اگست (ایس او نیوز) کاروار میں واقع کئیگا نیوکلیئر پاور پلانٹ (کے این پی ایس) میں قائم دو نئے قائم ہونے والے پانچویں اور چھٹویں یونٹ سے ریاست کو بجلی کا 50% حصہ حاصل ہوگا ۔
حالانکہ مقامی افراد اور ماحولیاتی جہد کاروں نے اس منصوبے کے خلاف گرین ٹریبیونل کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، لیکن کے این پی ایس کے افسران کو یقین ہے کہ یہ منصوبہ پوری طرح عمل میں آئے گا ۔ نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ کے کارپوریٹ کمشنر امید یادو نے بتایا کہ "بجلی کا حصہ تقسیم کرنے کا فیصلہ مرکزی وزارت توانائی کی طرف سے کیا جاتا ہے ۔ پھر بھی ریاست کرناٹکا کو سب سے بڑا حصہ ملے گا ۔
خیال رہے کہ کرناٹکا کو اس وقت کئیگا پلانٹ کے چار یونٹس میں تیار ہونے والی 220 میگا واٹس بجلی میں سے 35% حصہ ملتا ہے ۔ اب جو نئے دو یونٹس یہاں قائم کیے جا رہے ہیں ان کے ذریعے سال 2030 سے 700 میگا واٹس بجلی فراہم ہونے کی توقع ہے ۔

کئیگا کے سائٹ ڈائریکٹر ونود کمار بی نے تیقن دیا کہ تمام حفاظتی تدابیر اور اقدامات پر عمل کیا جا رہا ہے اس لئے اس پلانٹ کے تعلق سے کسی کو بھی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مرکزی وزارت توانائی کی طرف سے تمام ضروری اجازت نامے حاصل کیے گئے ہیں ۔ پلانٹ کی تعمیری سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں ۔
ایچ این رامیاہ چیف انجینئر نے بتایا کہ اس منصوبے کے لئے زمین تحویل میں لینے یا جنگلاتی زمین کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ ان دو یونٹس کے لئے صرف 1.8 لاکھ اسکوائر میٹر زمین درکار ہے ۔ 1998 میں اس منصوبے کے لئے 120 ہیکٹر زمین الاٹ کی گئی تھی ، اس میں سے اب تک چار یونٹس کے لئے 65.91 ہیکٹر زمین استعمال کی گئی ہے اور 54.91 ہیکٹر زمین ابھی ہمارے پاس موجود ہے۔ اس لئے نئی زمین تحویل میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نئے تعمیر ہونے والے ان دو نئے یونٹس سے فاضل مادہ کدرا ڈیم میں خارج نہیں کیا جائے گا اور ملک میں کرناٹکا پہلی ریاست ہے جہاں پر فلیٹ موڈ ریاکٹرس کام کریں گے ۔ اس منصوبے کے لئے وزارت توانائی و ایندھن، اسٹیٹ پولیوشن بورڈ، وائلڈ لائف بورڈ اور اٹامک اینرجی ریسرچ بورڈ کی طرف سے ہری جھنڈی مل چکی ہے ۔