کاروار، 16 / مئی (ایس او نیوز) گوا کی سرحد والا کاروار کا علاقہ بہت حسین اور خوبصورت ہونے کی وجہ سے یہاں پر سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے وافر مواقع موجود ہیں، لیکن منتخب عوامی نمائندے اور سرکاری افسران اس میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے یہاں سیاحتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں ۔
عوام کی زبان پر یہ سوال ہے کہ جب ضلع کے کمٹہ، ہوناور اور بھٹکل تعلقہ جات میں سیاحتی صنعت کو بڑی تیزی فروغ دیا جا رہا ہے تو پھر صرف کاروار کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔
کاروار کی قدرتی خوبصورتی کئی زاویوں سے اہم ہے ۔ ایک طرف خوبصورت ساحلی کنارہ، دوسری طرف مغربی گھاٹ اور گھنے جنگلات اور ان کے درمیان سے بہتی ہوئی کالی ندی ہے اور ان سب کے بیچ ذرا سے فاصلے پر یاست گوا کی سرحد میں داخلے کا راستہ ہے ۔ قدرتی حسن کا یہ سنگم سیاحتی صنعت کے لئے انتہائی سازگار ہے ۔ لیکن عوام کا کہنا ہے کہ کاروار میں ابھی تک اس طرف پوری طرح توجہ نہیں دی گئی ہے ۔
کسی مقام پر اگر صرف گھنے جنگلات ہوں یا صرف ساحلی علاقہ ہو یا پھر صرف ندی کا لمبا کنارہ ہو، تب بھی سیاحوں کو راغب کرنے اور سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کے لئے کافی ہوتا ہے ۔ مگر کاروار میں مختلف قسم کے قدرتی وسائل رہنے کے باوجود سیاحت کو فروغ دینے کی سمت میں بڑے پیمانے پر نہ کوئی منصوبہ کی گئی اور نہ ہی اقدامات کیے گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ سیاحتی نقطہ نظر سے یہ علاقہ ابھی تک پچھڑا ہوا ہے ۔
دوسری طرف ضلع کے ڈانڈیلی اور جوئیڈا تعلقہ جات میں اسی کالی ندی کا استعمال کرتے ہوئے سیاحتی صنعت کو بڑی ترقی دی گئی ہے ۔ آج ان علاقوں میں سیکڑوں ہوم اسٹے اور ریسارٹ قائم ہوئے ہیں جہاں روزانہ سیاحوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے اور ہزاروں افراد کے لئے روزی روٹی کا انتظام ہوتا ہے ۔
جبکہ سمندری ساحل کی بنیاد پر کمٹہ اور ہوناور میں بھی سیاحت کو ترقی مل رہی ہے ۔ کمٹہ کے کاگل، باڈا علاقے میں سیکڑوں ریسارٹ قائم ہوئے ہیں ۔ ہوناور کے ساحلی اور شراوتی ندی کے کناروں پر سیاحوں کی دلچسپی کا سامان فراہم کیا جا رہا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف کاروار کو چھوڑ کر ضلع کے دیگر تمام حصوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔
اس سے پہلے گوا کی طرف جانے والے سیاح کاروار کے ٹیگور ساحل پر رکتے اور سیر و تفریح کرکے آگے جاتے تھے ۔ مگر فلائی اوور کی تعمیر کے بعد گوا کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والے مسافر اور سیاح کاروار میں رکے بغیر آگے نکل جاتے ہیں ۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ کاروار میں سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے کالی ندی کے کنارے پر ہوم اسٹے قائم کرنے کے لئے لوگوں کا ترغیب اور سہولتیں فراہم کرے ۔ واٹر اسپورٹس کی سرگرمیاں شروع کرے ۔ سیاحوں کے لئے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا انتظام کرے ۔ یہاں پر موجود سیاحتی لکشی کے مراکز کے بارے میں مناسب تشہیر کرے ۔
انفرادی کوشش کے طور پر ونئے نامی ایک نوجوان نے کالی ندی کے کنارے اور سونکیری میں اوشیئن ڈیک نامی ہوم ریسارٹس قائم کیے ہیں جہاں سیاحوں کو راغب کرنے کے تمام انتظامات کیے گئے ہیں اور یہ کاروبار کامیابی سے چل رہا ہے ۔ ونئے کا کہنا ہے کہ مزید نوجوانوں کے اس سمت میں آگے بڑھنا چاہیے ۔
اس پس منظر میں لوگوں کو مطالبہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ کاروار میں سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کے لئے خصوصی پیکیج بنائے اور ایسے اقدامات کرے کہ ملازمتوں کے لئے کاروار سے دوسرے مقامات کی طرف ہجرت کرنے والے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دستیاب ہوں ۔