بینگلورو، 8 / ستمبر (ایس او نیوز) مشہور انگریزی روزنامہ ' دی ہندو ' کی ایک رپورٹ کے مطابق آلند اسمبلی حلقے سے ووٹر فراڈ کا ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے ۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک کانگریسی کارکن اشوک کمار (نام بدل دیا گیا ہے)کے مطابق آنگن واڑی کارکن اور بوتھ لیول آفیسر [بی ایل او] کی خدمات انجام دے رہی اس کی بہن کو کچھ فارم نمبر7 موصول ہوئے جس میں اس کے گھر والوں کے بہت سارے نام ووٹر فہرست سے خارج کرنے کی درخواست کی گئی تھی اور اس کا سبب یہ بتایا گیا تھا کہ یہ لوگ 2023 میں نقل مکانی کر چکے ہیں ۔
اشوک کمار نے بتایا کہ " میری بہن نے ان درخواستوں کے تعلق سے ہمیں چوکنّا کیا جس میں ہم لوگ اپنے گاوں میں موجود نہ ہونے کی جھوٹی بات کہتے ہوئے ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے کی اپیل کی گئی تھی ۔ یہ درخواستیں ہمارے گاوں کی ہی ایک خاتون کے نام سے داخل کی گئی تھیں، مگر اس خاتون کا کہنا تھا کہ اس نے ایسی کوئی درخواست دی ہی نہیں ۔"
اشوک کمار کے مطابق اس کے چھوٹے سے گاوں سے جملہ 47 فارم نمبر 7 داخل کیے گئے تھے جس میں لوگوں کے نام ووٹر فہرست سے خارج کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ اس نے بتایا کہ " میں نے ہمارے امیدوار بی آر پاٹل کو اس کی اطلاع دی، جنہوں نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ہمارے نام ووٹر لسٹ میں بحال رکھنے کا کام انجام دیا ۔"
اشوک کمار نے بتایا کہ "جب ہمیں اس فارم نمبر 7 کے ذریعے فراڈ کا پتہ چلا تو ہم نے اپنے کارکنان کو اس معاملے کی تہہ تک جانے کو کہا یہ ایک بڑا اسکینڈل ثابت ہوا ۔ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کی درخواستیں دی گئی تھیں ہم نے ایسے تمام افراد کو چوکنّا کرتے ہوئے انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کہ اس تعلق سے تحصیلدار کو میمورنڈم دیا جائے ۔ چونکہ یہ ایک چھوٹا سا دیہی اسمبلی حلقہ ہے، اس لئے ہمارے کارکنان بھی اس کے لئے ہمت کر نہیں پائے ۔ جوں توں کرکے ہم نے 38 ووٹرس کو تحصیلدار کے پاس شکایت درج کروانے کے لئے آمادہ کیا ۔
('دی ہندو' اخبار کا دعویٰ ہے کہ ان تمام 38 کی افراد کی طرف سے درج کروائی گئی شکایت کی نقول اس کے پاس موجود ہے ۔)