ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بھارت منوسمرتی نہیں، آئین سے چلے گا: سدارامیا کا دہلی میں سوشیل جسٹس سمیلن سے خطاب، بنگلورو ڈیکلریشن پیش، آر ایس ایس نظریے پر شدید تنقید

بھارت منوسمرتی نہیں، آئین سے چلے گا: سدارامیا کا دہلی میں سوشیل جسٹس سمیلن سے خطاب، بنگلورو ڈیکلریشن پیش، آر ایس ایس نظریے پر شدید تنقید

Sat, 26 Jul 2025 12:59:41    S O News

نئی دہلی / بنگلورو، 26 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی)کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے آج دہلی میں منعقدہ "بھاگیداری نیائے سمیلن" میں ایک جامع اور بامعنی خطاب کرتے ہوئے "بنگلورو ڈیکلریشن" کو باقاعدہ طور پر پیش کیا۔ اس اجلاس میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی، کے سی وینوگوپال، انل جے ہند سمیت کئی سینئر قائدین موجود تھے۔

سدارامیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سمیلن محض سیاسی تقریب نہیں بلکہ بھارت کے پسماندہ، محروم اور حاشیے پر موجود سماجی طبقات کی آواز، ان کی عزت و نمائندگی کا اجتماعی مطالبہ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کا قول دہراتے ہوئے کہا، "انصاف ہی قوم کی روح ہے،" اور واضح کیا کہ جب تک ہر طبقہ کو مساوی شرکت اور حقوق حاصل نہیں ہوں گے، جدوجہد جاری رہے گی۔

وزیر اعلیٰ نے راہول گاندھی کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف، برابری اور شراکت داری کی سیاست کے ایک بہادر علمبردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سدارامیا نے زور دے کر کہا، "انصاف کوئی نعرہ نہیں بلکہ آئینی وعدہ ہے، اور شراکت داری جمہوریت کی رگوں میں دوڑنے والا خون ہے۔"

اس موقع پر سدارامیا نے آر ایس ایس اور بی جے پی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں ذات پات پر مبنی غیر مساوی نظام کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے تقدس بخشنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے منوسمرتی، گولوالکر اور منوواد کے نظریات کو "سماجی لعنت" قرار دیا اور کہا کہ ان کے خوابوں کا بھارت ایسا ہے جہاں صرف طاقتور اور "قابل" سمجھے جانے والے افراد کو باوقار زندگی کا حق دیا جاتا ہے۔

سدارامیا نے کہا کہ "ہمارا آئین کمزوروں کو انصاف کا وعدہ دیتا ہے۔" انہوں نے گوتم بدھ، بسونا، مہاتما پھولے، راجہ شاہو مہاراج، نارائن گرو، پیرئار، بابا صاحب امبیڈکر، کویمپو اور مہاتما گاندھی جیسے عظیم سماجی مصلحین کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اصل روح سماجی انصاف میں ہے۔

انہوں نے بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے منڈل کمیشن کی سفارشات کو دبایا، 2015 کے ذات پر مبنی سماجی و اقتصادی سروے کی رپورٹ کو برسوں تک چھپایا، اور او بی سی طبقات کو مرکزی اداروں میں نمائندگی سے محروم رکھا۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ بی جے پی کی پالیسیاں، جیسے "اگنی پتھ" اسکیم، نجکاری کی راہ، اور ریزرویشن پر سوالات اٹھانا، اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ سماجی انصاف کے نظریے کی دشمن ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سدارامیا نے کہا: "ہمیں انصاف کے لیے سچائی سے آغاز کرنا ہوگا، اور سچائی اعداد و شمار میں چھپی ہے۔ جب مظلوم متحد ہوتے ہیں، تو تاریخ انصاف کی طرف جھک جاتی ہے۔"


Share: