شیموگہ 29/مئی (ایس او نیوز): کرناٹک کے وزیر اور دکشن کنڑا کے ڈسٹرکٹ انچارج منسٹر دینیش گنڈو راؤ نے مینگلور کے قریب بنٹوال میں پیش آئے ایک نوجوان کے قتل پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی اور سنگھ پریوار کو فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جس نوجوان کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، اس کا نام عبد الرحمان ہے، جب کہ ایک اور شخص زخمی ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس واقعے کی وجہ پرانی دشمنی اور انتقامی جذبات ہیں۔ پولیس کو ملزمان کے بارے میں ابتدائی سراغ مل چکے ہیں اور جلد ہی گرفتاریاں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ "اس طرح کی وحشیانہ ہلاکت معاشرے کو غلط پیغام دیتی ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار اس طرح کے واقعات پر سیاست کرتے ہیں اور یہی ان کا اصل ہتھیار ہے۔ وہی لوگ جنوبی کینرا میں حالات بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں۔"
دینیش گنڈو راؤ نے اس معاملے کا موازنہ پچھلے ’سہاس شیٹی‘ قتل کیس سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے اس کیس میں تمام ملزمان گرفتار کیے گئے تھے، اسی طرح اس کیس میں بھی انصاف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ "کسی بھی قتل کو مذہب یا ذات کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیے، جرم کرنے والا جو بھی ہو سزا ضرور ملے گی۔"
بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "بی جے پی لیڈروں کے بیانات میں نہ منطق ہے، نہ انصاف، نہ انسانیت، بلکہ ان کے دل صرف نفرت اور زہر سے بھرے ہوئے ہیں۔"
وزیر نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے فرقہ وارانہ واقعات کی وجہ سے ضلع کی شبیہ بگڑ رہی ہے، اور کوئی بھی یہاں سرمایہ کاری یا سیاحت کے لیے آنے سے کترائے گا۔
شَرن پمپ ویل بند کال پر تبصرہ کرتے ہوئے گنڈو راؤ نے کہا کہ "اشتعال پھیلانے والے لوگ ہندوتوا کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوتوا کے نام پر کسی کو بھی مارا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ریتی مافیا اور بدمعاش بھی ہندوتوا کا نام استعمال کرتے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کینرا ضلع میں جلد ہی ایک اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی تاکہ بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے حال ہی میں وزیر داخلہ جی پرمیشور کی طرف سے دئے گئے بیان پر کہا کہ "ہمیں ایک اینٹی کمیونل فورس بھی بنانا ضروری ہے۔