ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / دیوراج ارس کی 110ویں جینتی: وزیر اعلیٰ سدارامیا کا خطاب، صحافی کَلّے شِووتّم راؤ کو دیا گیا "دیوراج ارس ایوارڈ

دیوراج ارس کی 110ویں جینتی: وزیر اعلیٰ سدارامیا کا خطاب، صحافی کَلّے شِووتّم راؤ کو دیا گیا "دیوراج ارس ایوارڈ

Wed, 20 Aug 2025 17:58:36    S O News

بنگلورو، 20 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی):ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی دیوراج ارس کی 110 ویں یومِ پیدائش تقریب اور "دیوراج ارس ایوارڈ" کی تقسیم آج ودھان سودھا کے بینکویٹ ہال میں شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سدارامیا نے سینئر صحافی کَلّے شِووتّم راؤ کو اس سال کا دیوراج ارس ایوارڈ پیش کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دیوراج ارس نے اپنی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں سماجی انصاف اور مساوات کے قیام کے لئے تاریخی کوششیں کیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ "میسور ریاست کا نام بدل کر کرناٹک رکھنے میں دیوراج ارس کا اہم کردار رہا۔ وہ ہمیشہ پسماندہ طبقات، دلتوں اور غریبوں کو بااختیار بنانے کے لئے سرگرم رہے۔"

سدارامیا نے کہا کہ ارس کا یقین تھا کہ صرف سیاسی آزادی کافی نہیں، بلکہ سماجی اور معاشی آزادی کے بغیر حقیقی جمہوریت ممکن نہیں۔ اسی نظریے کو بابا صاحب امبیڈکر نے بھی اجاگر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی اصلاحات کے تحت "اُلُوونَگے بھومی" قانون نافذ کرنا آسان نہیں تھا لیکن ارس نے ہر مخالفت کے باوجود اسے کامیابی سے نافذ کیا۔ اسی طرح ہاوانور کمیشن کے ذریعے پسماندہ طبقات کو تعلیم اور ملازمت میں ریزرویشن فراہم کرنے کا فیصلہ بھی ایک سنگ میل ثابت ہوا۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ "ویشے ویتھی اور ملاحوروو جیسی غیر انسانی رسومات کا خاتمہ، قرض معافی قانون، اور غریبوں کے لیے فلاحی اسکیمات دیوراج ارس کی پالیسیوں کا نمایاں حصہ تھیں۔" اپنی حکومت کی اسکیمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’جب ہم نے اَنّا بھاگیہ اسکیم شروع کی تھی تو مقصد یہی تھا کہ ریاست کا کوئی غریب شخص بھوک کا شکار نہ ہو۔ آج بھی ریاست میں 10 کلو چاول مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کی فی کس آمدنی 2013-14 میں ایک لاکھ چار ہزار روپے تھی جو 2024-25 میں دو لاکھ پانچ ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے اور اس اعتبار سے کرناٹک پورے ملک میں پہلے مقام پر ہے۔

کَلّے شِووتّم راؤ کو ایوارڈ دیے جانے پر وزیر اعلیٰ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ اعزاز انہیں پہلے ہی مل جانا چاہئے تھا۔ وہ ہمیشہ حکومت پر تنقید کرنے سے نہیں ہچکچائے، یہاں تک کہ مجھ پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔" انہوں نے دعا کی کہ 96 سالہ راؤ کی عمر ایک صدی سے بھی آگے بڑھے۔

اس موقع پر وزیر برائے پسماندہ طبقات و کنڑا و ثقافت شیوراج تنگڑگی، وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیر احمد، ریاستی گارنٹی اسکیم کمیٹی کے صدر ایچ ایم ریونّا، کمیشن برائے پسماندہ طبقات کے صدر مدھو سودن نائک، ارکان اسمبلی اور دیگر عوامی نمائندے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔


Share: