بنگلورو، 11 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ بنگلورو میٹرو منصوبے کے اخراجات میں ریاستی حکومت کا حصہ 87.37 فیصد ہے، جبکہ مرکزی حکومت کا حصہ صرف 12.63 فیصد ہے۔ انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ بنگلورو کی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون فراہم کرے، کیونکہ یہ شہر ملک کی آئی ٹی برآمدات میں 35 تا 40 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
اتوار کو میٹرو فیز-2 کی "ییلو لائن" کے افتتاح، جے پی نگر چوتھے مرحلے کے سنگِ بنیاد اور وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اگرچہ میٹرو منصوبے میں مرکز نے فنی و مالی تعاون فراہم کیا ہے، لیکن ریاستی حکومت نے فیز-1، فیز-2، 2A، 2B اور فیز-3 کے لیے 25,387 کروڑ روپے مہیا کیے ہیں۔ اس کے علاوہ قرض کی ادائیگی کے لیے مزید 3,987 کروڑ روپے بھی ریاست کی جانب سے فراہم کیے گئے، اس طرح مجموعی طور پر اب تک 59,139 کروڑ روپے مختص کیے جا چکے ہیں۔
سدارامیا کے مطابق مرکزی حکومت نے میٹرو کے لیے صرف 7,468.86 کروڑ روپے دیے ہیں، جبکہ قرض کی شکل میں حاصل کی گئی رقم کو سود سمیت ریاست اور میٹرو کارپوریشن کو واپس کرنا ہوگا، جس سے اصل مالی بوجھ کا 87.37 فیصد حصہ ریاست پر آتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ییلو لائن کے آغاز کے ساتھ ہی بنگلورو میٹرو نیٹ ورک 96.10 کلومیٹر تک پھیل گیا ہے، جو جنوبی ہند میں سب سے طویل ہے۔ اس لائن سے روزانہ 3.5 لاکھ مسافروں کو سہولت ملے گی اور سلک بورڈ و جے دیوا اسپتال کے علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ فیز-2 کی تکمیل کے بعد میٹرو کا دائرہ 117 کلومیٹر تک پہنچ جائے گا، جس سے یومیہ 15 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ 2A اور 2B فیز کے تحت 58 کلومیٹر طویل راستہ 2027 تک مکمل کیا جائے گا، جو آؤٹر رنگ روڈ کو بین الاقوامی ہوائی اڈے سے جوڑے گا۔ فیز-3 میں 44.65 کلومیٹر طویل راہداری پر 15,611 کروڑ روپے لاگت آئے گی، جبکہ فیز-4 کے تحت 53 کلومیٹر طویل ڈبل ڈیکر میٹرو روٹ کے لیے فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔
سدارامیا نے ہدف مقرر کیا کہ 2030 تک بنگلورو میں 220 کلومیٹر طویل میٹرو نیٹ ورک مکمل کر کے روزانہ 30 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے ایک بار پھر مرکز سے اپیل کی کہ بنگلورو کی تیز رفتار ترقی اور ٹریفک مسائل کے حل میں بھرپور تعاون کیا جائے۔