ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / دستور دشمن منووادی قوتوں کو پہچاننا ضروری، امبیڈکر کا دستور مساوات اور انصاف کی بنیاد ہے: وزیراعلیٰ سدارامیا

دستور دشمن منووادی قوتوں کو پہچاننا ضروری، امبیڈکر کا دستور مساوات اور انصاف کی بنیاد ہے: وزیراعلیٰ سدارامیا

Thu, 27 Nov 2025 12:44:42    S O News
دستور دشمن منووادی قوتوں کو پہچاننا ضروری، امبیڈکر کا دستور مساوات اور انصاف کی بنیاد ہے: وزیراعلیٰ سدارامیا

بنگلورو   ، 27/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ ملک میں ایسے عناصر سرگرم ہیں جو دستور اور مساوات کے اصولوں کے کھلے مخالف ہیں۔ انہوں نے انہیں ’’منووادی قوتیں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے تیار کردہ دستور کی اقدار سے مسلسل دشمنی رکھتے ہیں۔وہ سماجی فلاح و بہبود محکمہ کی جانب سے وسانت نگر کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بھون میں منعقدہ ’’یومِ دستور 2025‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ امبیڈکر کے دستور سے پہلے ملک میں غیر تحریری منوسمرتی غالب تھی، جس کے قوانین انسان دشمن، مساوات دشمن اور امتیاز پر مبنی تھے۔انہوں نے کہا:’’امبیڈکر نے ایک ایسا دستور دیا جس میں منوسمرتی جیسے غیر انسانی اصولوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اسی لیے منووادی طاقتیں آج بھی ہمارے دستور کی مخالفت کرتی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ دستور ساز اسمبلی نے ایک سال تک تفصیلی مباحثے کے بعد اس ملک کے لیے قابل قبول دستور مرتب کیا۔ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اس قدر زبانیں، مذاہب اور ذاتیں پائی جاتی ہیں۔اسی لیے امبیڈکر نے ایک ایسا تحریری دستور دیا جو سماجی تنوع کے مطابق ہو۔’’منووادی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دستور امبیڈکر نے نہیں بنایا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہی اس کے اصل معمار ہیں۔‘‘

امبیڈکر نے ذات پات کے جبر اور اس کی تباہ کاریوں کو سمجھتے ہوئے دستور میں ریزرویشن جیسا تاریخی قدم شامل کیا۔ ’’آزادی کے 75 سال بعد بھی دستور کے مقاصد پوری طرح حاصل نہیں ہوئے۔‘‘بسویشور اور دیگر مصلحین نے بھی ذات پات کے خلاف جدوجہد کی، مگر بااثر طبقات ابھی بھی ذات کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں۔’’جب تک نچلی ذاتوں اور پسماندہ طبقات کو معاشی طاقت نہیں ملتی، ذات پر مبنی تفریق ختم نہیں ہوگی۔‘‘

امبیڈکر کی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی آخری تقریر کو ہر شہری کو سمجھنا اور یاد رکھنا چاہیے۔ ’’عدم مساوات والے سماج میں مساوات خود بخود نہیں آتی، اسے لانا پڑتا ہے۔‘‘ ’’کسی بھی مذہب نے دلتوں، پسماندہ طبقوں، شدر طبقے یا مسلمانوں سے نفرت کی تعلیم نہیں دی۔‘‘ دستور پر 285 میں سے 284 اراکین نے دستخط کیے—اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امبیڈکر کا تیار کردہ دستور سب کو قبول تھا۔

سدارامیا نے کہا کہ ان کی حکومت نے عوام کی دہلیز تک فلاحی اسکیمیں پہنچائیں تاکہ معاشی نابرابری کو دور کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ’’میں نے انا بھاگیا، شُو بھاگیا اور موجودہ پانچ گارنٹی اسکیمیں اسی اصول کے تحت نافذ کیں کہ کوئی بھوکا نہ رہے، کوئی بچہ ننگے پاؤں اسکول نہ جائے، اور سب کو معاشی طاقت ملے۔‘‘

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ دستور، مساوات، اخوت اور آزادی کے اصولوں کو عملی طور پر نافذ کرنا ہی امبیڈکر کو سچا خراجِ عقیدت ہے۔تقریب میں وزیر ایچ سی مہادیواپا، کے ایچ منی اپا، ایم سی سدھاکر، قانونی مشیر اے ایس پوننّا، سیاسی سکریٹری نصیر احمد سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔


Share: