ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / وزیراعلیٰ سدارامیا کا وکٹوریہ اسپتال کا اچانک دورہ، مریضوں سے ہمدردی اور بہتر خدمات کی ہدایت

وزیراعلیٰ سدارامیا کا وکٹوریہ اسپتال کا اچانک دورہ، مریضوں سے ہمدردی اور بہتر خدمات کی ہدایت

Wed, 06 Aug 2025 20:10:55    S O News
وزیراعلیٰ سدارامیا کا وکٹوریہ اسپتال کا اچانک دورہ، مریضوں سے ہمدردی اور بہتر خدمات کی ہدایت

بنگلورو، 6 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی)کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے منگل کو بنگلورو کے مشہور وکٹوریہ اسپتال کا اچانک دورہ کرتے ہوئے مختلف وارڈز اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ ان کے اچانک پہنچنے سے اسپتال کا عملہ گھبراہٹ کا شکار ہو گیا، جبکہ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں نے ان سے شکایات بھی کیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو چاہیے کہ وہ مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ اور شائستہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ان اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت میسر ہے، اس لیے یہاں مریضوں کا رش زیادہ ہوتا ہے، ایسے میں طبی عملے کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور کسی بھی صورت میں مریضوں سے رقم نہ لی جائے۔

سدارامیا نے یہ بھی بتایا کہ وہ آج ضلع کوپل کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، مگر بارش کے باعث پروگرام منسوخ ہو گیا، جس کے بعد انہوں نے وکٹوریہ اسپتال کا غیر متوقع معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے اسپتال میں پارکنگ کے نام پر رقم وصولی کے معاملے کی جانچ کا بھی حکم دیا۔

ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا کہ نجی ایمبولینس سروسز کے ذریعے زیادہ پیسے لینے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے 108 ایمبولینس سروس دستیاب ہے، جس سے عوام کو استفادہ کرنا چاہیے۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ نے وانی ولاس اسپتال اور ٹراما سینٹر کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وانی ولاس اسپتال میں روزانہ 40 سے زائد زچگیاں ہوتی ہیں، اور نہ صرف کرناٹک بلکہ دیگر ریاستوں سے بھی مریض یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ اس کے مدنظر انہوں نے اسپتال میں بستروں کی تعداد بڑھانے اور ڈاکٹروں کی خالی اسامیوں کو جلد پُر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے گیسٹرو اینٹرولوجی شعبے کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ اعضاء عطیہ سے متعلق آپریشن پرائیویٹ اسپتالوں میں 30 تا 40 لاکھ روپے تک کے ہوتے ہیں، لیکن یہاں یہ خدمات بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موجودہ 120 بستروں والے اسپتال کو 300 بستروں تک وسعت دینے کی تجویز زیر غور ہے، جس پر جلد فیصلہ لیا جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں مریضوں کی طرف سے کوئی بڑی شکایت موصول نہیں ہوئی، تاہم چند افراد نے اسپتال میں داخلے کی درخواست کی ہے۔

اس موقع پر وزیر برائے طبی تعلیم ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل، پرنسپل سکریٹری برائے طبی تعلیمات محمد محسن، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔


Share: