بنگلورو، 8 /ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی):کرناٹک میں حالیہ طوفانی بارشوں اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اتوار کو ریاست کے تمام ضلع کلکٹروں اور اعلیٰ افسران کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں بارش اور سیلاب کے نقصانات، کسانوں کو معاوضہ، اور آبی ذخائر کی مرمت جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر تنگبھدرا ڈیم کی مرمت کو ترجیح دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پہلی فصل کو پانی فراہم کرنے سے قبل تمام مرمتی کام مکمل کیے جائیں۔ بتایا گیا کہ ڈیم کے 32 کریسٹ گیٹ تبدیل کرنے کا ٹینڈر جاری کیا گیا ہے، جن میں سے 8 گیٹ نصب کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں ڈیم سے صرف پہلی فصل کے لیے پانی مہیا کیا جا سکے گا، دوسری فصل کے لیے فی الحال گنجائش نہیں ہے۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق، جون سے ستمبر کے پہلے ہفتے تک ریاست میں اوسط سے 4 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی بارش 753 ملی میٹر رہی جبکہ معمول کے مطابق یہ 721 ملی میٹر ہونی چاہیے تھی۔ چامراج نگر ضلع میں 24 فیصد کم بارش ہوئی، لیکن وجے پور، گدگ، باگل کوٹ، دوڈبالاپور، ٹمکورو اور بیلگاوی جیسے اضلاع میں 20 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
ریاست کے بڑے آبی ذخائر میں اس وقت 840.52 ٹی ایم سی پانی جمع ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے کچھ کم ہے۔ بارش اور سیلاب سے اب تک 111 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن کے اہل خانہ کو 5.55 کروڑ روپے معاوضہ دیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ 651 مکانات مکمل طور پر منہدم جبکہ 9087 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کے ساتھ رہائشی اسکیموں کے تحت نئے مکانات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
فصلوں کو پہنچے نقصان کا جائزہ پیش کرتے ہوئے افسران نے بتایا کہ 5.20 لاکھ ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا ہے، جن میں 4.8 لاکھ ہیکٹر زرعی اور 40 ہزار ہیکٹر باغبانی کی فصل شامل ہے۔ اس دوران 766 مویشی بھی ہلاک ہوئے، جن کے مالکان کو 1.52 کروڑ روپے معاوضہ دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کلکٹروں کو ہدایت دی کہ کسانوں اور عوام کو وقت پر معاوضہ پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے اور فصلوں کے نقصان کے سروے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ متاثرین کو فوری راحت فراہم کی جا سکے۔