ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساحلی کرناٹکا میں بار بار ہورہے تشدد پر کانگریس کے مسلم قائدین برہم؛ محکمہ داخلہ کی ناکامی پر اجتماعی استعفیٰ

ساحلی کرناٹکا میں بار بار ہورہے تشدد پر کانگریس کے مسلم قائدین برہم؛ محکمہ داخلہ کی ناکامی پر اجتماعی استعفیٰ

Fri, 30 May 2025 01:37:31    S O News
ساحلی کرناٹکا میں بار بار ہورہے تشدد پر کانگریس کے مسلم قائدین برہم؛ محکمہ داخلہ کی ناکامی پر اجتماعی استعفیٰ

مینگلور 29/مئی (ایس او نیوز) بنٹوال میں مسلم نوجوان کے قتل کے بعد معاملہ روز بروز زورپکڑتا جارہا ہے، آج یہ معاملہ اس قدر طول پکڑا کہ  دکشن کنڑا کانگریس کے مسلم قائدین نے ایک ساتھ اجتماعی طور استعفیٰ دے کر کانگریس سے سخت ناراضگی ظاہر کی۔

بتایا گیا ہے کہ ساحلی کرناٹکا میں بڑھتے ہوئے تشدد، ریاستی محکمہ داخلہ کی بے عملی اور پارٹی میں مسلم قیادت کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جنوبی کینرا (دکشن کنڑا) ضلع کے کئی مسلم کانگریس قائدین نے جمعرات کو منگلورو کے بولار علاقہ میں واقع شادی محل کنونشن ہال میں منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس کے دوران پارٹی کی مختلف ذمہ داریوں سے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا۔

یہ اجلاس اُس وقت جذباتی ماحول میں تبدیل ہوگیا جہاں منتخب عوامی نمائندوں اور کانگریس پارٹی کے مسلم رہنماؤں نے شرکت کرنے کے ساتھ ہی ۔ اجلاس کے اختتام پر کئی اہم قائدین نے اجتماعی استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔

استعفیٰ دینے والوں میں کے پی سی سی کے جنرل سکریٹری ایم ایس محمد، ضلع کانگریس اقلیتی سیل کے صدر کے کے شاہ الحمید اور ضلع نائب صدر عبدالرؤف سمیت دیگر قائدین شامل ہیں۔ ان رہنماؤں نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی نے مسلم طبقے کے مسائل کو نظرانداز کیا ہے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں ضلع میں پیش آنے والی فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے تناظر میں، نفرت اور اشتعال پھیلانے والے لیڈران کے خلاف کسی طرح کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا جس کے نتیجے میں فرقہ پرست لیڈران کے حوصلے بلند ہوگئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے کے شاہ الحمید نے کہا کہ سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے قائدین کی جانب سے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات دیے جا رہے ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ پولیس محکمہ بھی مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ انہوں نے حالیہ ہلاکتوں کے ملزمان کے خلاف کوئی سخت قدم نہ اٹھانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔

تقریر کے دوران بڑی تعداد میں کانگریسی کارکنوں نے ’’انصاف دو‘‘ کے نعرے لگائے۔ اس دوران کچھ کارکن اسٹیج کی جانب بڑھنے لگے، جنہیں قائدین نے مداخلت کرکے پرامن کرنے کی کوشش کی۔

بتاتے چلیں کہ استعفوں کی فوری وجہ بنٹوال میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں عبدالرحمٰن کا قتل ہے۔ اس واقعہ کے بعد کئی مسلم کانگریس قائدین کو کارکنوں کی شدید ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کچھ رہنماؤں نے تو عبدالرحمٰن کے جنازے کے بعد سوشل میڈیا پر استعفیٰ دینے کے عندیے بھی دے دیے تھے۔

تاہم کارکنوں کا غصہ اس وقت مزید بھڑک اٹھا جب انہیں محسوس ہوا کہ چند رہنما استعفیٰ کے فیصلے میں تاخیر کر رہے ہیں۔ اس موقع پر سابق کارپوریٹر عبدالرؤف اور سہیل کندک نے حاضرین کو یقین دلایا کہ استعفے کا فیصلہ اٹل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

بعد ازاں، ضلع نائب صدر کے عہدے سے عبدالرؤف، کے پی سی سی جنرل سکریٹری کے عہدے سے ایم ایس محمد، اور اقلیتی سیل کے صدر کے عہدے سے کے کے شاہ الحمید نے باضابطہ استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ دیگر رہنماؤں نے بھی یکے بعد دیگرے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے اجلاس سے رخصت لی۔

اجلاس کے مقام کے باہر پولیس کو تعینات کیا گیا تھا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔


Share: