ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / داونگیرے کا انتخابی معرکہ اور کانگریس کی دو رخی سیاست: مسلمان کب تک صرف ووٹ بینک رہیں گے؟ — از: عبدالحلیم منصور

داونگیرے کا انتخابی معرکہ اور کانگریس کی دو رخی سیاست: مسلمان کب تک صرف ووٹ بینک رہیں گے؟ — از: عبدالحلیم منصور

Sat, 28 Mar 2026 10:43:53    S O News
داونگیرے کا انتخابی معرکہ اور کانگریس کی دو رخی سیاست: مسلمان کب تک صرف ووٹ بینک رہیں گے؟ — از: عبدالحلیم منصور

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

کرناٹک کی سیاست میں داونگیرے جنوبی حلقہ کا حالیہ تنازع محض ایک ضمنی انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی ذہنیت کا عکاس ہے جو برسوں سے مسلمانوں کے ساتھ اختیار کی جاتی رہی ہے—ایک ایسی ذہنیت جس میں انہیں فیصلہ کن قوت ہونے کے باوجود اقتدار کے دائرے سے باہر رکھا جاتا ہے۔ اور مسلمانوں کو ہمیشہ ایک “ضروری مگر بے اختیار” قوت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔بظاہر سماجی انصاف، برابری اور جمہوری اقدار کی علمبردار کانگریس پارٹی نے ایک بار پھر اپنے عمل سے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کے دعوے اور زمینی حقیقت دو الگ دنیائیں ہیں۔

کرناٹک کے گزشتہ اسمبلی انتخابات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمانوں نے بڑی حد تک یکطرفہ طور پر کانگریس کا ساتھ دیا۔ یہ فیصلہ کسی جذباتی وابستگی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم خوف کے تحت لیا گیا تھا۔ مسلمانوں کو بار بار یہ باور کرایا گیا کہ اگر کانگریس اقتدار میں نہ آئی تو فرقہ پرست قوتیں نہ صرف مضبوط ہوں گی بلکہ ان کے وجود، شناخت اور معاشی و سماجی تحفظات بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔ اسی خوف نے ایک پوری برادری کو اپنے تمام تر اختلافات اور تحفظات کے باوجود ایک ہی سیاسی سمت میں کھڑا کر دیا ،اور یہی یکطرفہ حمایت کانگریس کی بھاری اکثریت کا سبب بنی۔

لیکن اقتدار کے بعد جو رویہ سامنے آیا، وہ اس اعتماد کے سراسر برعکس ہے۔ تقریباً 2.3 لاکھ ووٹرز والا داونگیرے جنوبی حلقہ، جہاں تقریباً اسی ہزار مسلمان ووٹرز موجود ہیں، وہاں ایک مضبوط اور دیرینہ وفادار مسلم امیدوار کو نظر انداز کر کے خاندانی سیاست کو ترجیح دینا دراصل اس حقیقت کا کھلا اعلان ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی حیثیت ووٹ دینے تک محدود ہے، اقتدار میں شراکت تک نہیں۔

مرحوم شامنور شیوشنکرپا کے انتقال کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال ایک ایسا موقع تھی جہاں کانگریس اپنی عملی وابستگی دکھا سکتی تھی۔ مگر اس کے برعکس “ہمدردی” کے نام پر خاندانی تسلسل کو برقرار رکھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمدردی صرف مخصوص خاندانوں کے لیے مخصوص ہے؟ کیا دہائیوں کی وفاداری اور جدوجہد رکھنے والے کارکن اس معیار پر پورے نہیں اترتے؟

اس سے بھی زیادہ سنگین پہلو وہ ہے جو پسِ پردہ سامنے آیا۔ ایک مسلم وزیر کی جانب سے ٹکٹ کے معاملے پر استعفیٰ دینے کی وارننگ کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ پارٹی کے ریاستی انچارج کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ اگر استعفیٰ دینا ہے تو دے دیا جائے، فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا۔ یہ رویہ محض سیاسی سختی نہیں بلکہ ایک پوری برادری کی توہین ہے—ایسی توہین جو اس احساس کو مزید گہرا کرتی ہے کہ مسلمانوں کی آواز اقتدار کے ایوانوں میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔

وزیراعلیٰ سدارامیا کی رہائش گاہ پر ہونے والی مفاہمتی نشست میں باغی و آزاد امیدوار صادق پہلوان جیسے قدیم کارکن کا اچانک دستبردار ہونا اس سیاسی کھیل کا ایک اور پہلو ہے۔ وہی صادق پہلوان جنہوں نے آخری لمحے تک اعلان کیا تھا کہ وہ کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے، ان کی پسپائی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا مسلم قیادت خود بھی اس استحصال کے نظام کا حصہ بنتی جا رہی ہے؟ عوامی حلقوں میں اس تبدیلی کو محض سیاسی سمجھوتہ نہیں بلکہ دباؤ اور مصلحت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔عوامی سطح پر اس تبدیلی کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔

یہاں اصل سوال صرف ایک ٹکٹ یا ایک حلقے کا نہیں بلکہ ایک پورے سیاسی رویے کا ہے۔ کیا مسلمانوں کو ہمیشہ اسی طرح ایک نفسیاتی دائرے میں قید رکھا جائے گا جہاں انہیں یہ باور کرایا جائے کہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں؟ کیا “بی جے پی کے خوف” کو ہمیشہ ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ کرناٹک میں مسلمانوں کے سامنے کوئی مضبوط متبادل سیاسی قوت موجود نہیں، اور یہی وہ سب سے بڑی کمزوری ہے جسے کانگریس نے اپنی طاقت میں بدل لیا ہے۔ اسے بخوبی معلوم ہے کہ مسلمان اس کی سیاسی مجبوری ہیں—وہ چاہے انہیں اقتدار میں حصہ دے یا نہ دے، ان کے مسائل کو حل کرے یا نظر انداز کرے، وہ بالآخر اسی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ یہی سوچ دراصل سیاسی استحصال کی بنیاد ہے۔
قومی سطح پر بھی یہی طرزِ عمل مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے۔ مسلمانوں کی سیاسی اہمیت کو تسلیم تو کیا جاتا ہے، مگر انہیں فیصلہ سازی کے مراکز میں شامل کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یہ تضاد جمہوری نظام کی روح کے خلاف ہے اور طویل مدتی طور پر سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ریاستی قیادت، خصوصاً سدارامیا، اور مرکزی قیادت کے نمایاں چہرے راہل گاندھی کے بیانات میں جو بلند بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں، وہ زمینی حقیقت سے میل نہیں کھاتے۔ یہی تضاد عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور ایک گہرے سیاسی بحران کی بنیاد رکھتا ہے۔

تاہم، اس ساری صورت حال میں مسلم قیادت کا کردار بھی سوالات سے خالی نہیں۔ جب قیادت چاپلوسی، مصلحت اور ذاتی مفادات کے دائرے میں قید ہو جائے تو وہ برادری کی نمائندہ نہیں رہتی بلکہ محض اقتدار کے نظام کا ایک خاموش جزو بن جاتی ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جس نے مسلمانوں کو ایک مضبوط سیاسی قوت بننے سے روکے رکھا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا حل کیا ہے؟ کیا مسلمان اسی طرح خوف اور مجبوری کے دائرے میں قید رہیں گے یا اپنی سیاسی حکمت عملی پر ازسرِنو غور کریں گے؟ کیا وہ اپنی اجتماعی طاقت کو پہچان کر اسے منظم انداز میں استعمال کریں گے؟ کیا وہ سیاسی جماعتوں کو یہ پیغام دینے کے لیے تیار ہیں کہ وفاداری یکطرفہ نہیں ہوتی؟

اب وقت آ چکا ہے کہ مسلمان محض ردعمل کی سیاست سے آگے بڑھیں اور ایک فعال، باوقار اور خود مختار سیاسی کردار ادا کریں۔ متبادل کی تلاش اب ایک خواب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ متبادل کسی نئی جماعت، کسی مضبوط علاقائی اتحاد یا ایک منظم عوامی دباؤ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

داونگیرے کا یہ واقعہ ایک انتباہ ہے—ایک واضح پیغام کہ اگر ایک برادری اپنی سیاسی طاقت کو منظم انداز میں استعمال نہیں کرتی تو اسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہے گا۔

اب فیصلہ مسلمانوں کو کرنا ہے کہ کیا وہ ہمیشہ دوسروں کے فیصلوں کے تابع رہیں گے، یا اپنی تقدیر خود لکھنے کا حوصلہ پیدا کریں گے؟

( مضمون نگار عبدالحلیم منصور  کا شمار کرناٹک کے سنئیر صحافیوں میں ہوتا ہے  اور  مضمون نگار کے خیالات  سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)


Share: