"خموشی بول اٹھی ہے، گواہوں سے پہلے
زمیں کا خوف بھی، آسمانوں سے پہلے"
کرناٹک کا مذہبی و مندروں کا شہر دھرمستھلا صدیوں سے روحانی اقدار، خیرات، اور خدمتِ خلق کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہاں کی روایات، مذہبی عقائد، اور نظام کو عوام نے ہمیشہ تقدس اور عقیدت کی آنکھ سے دیکھا۔ لیکن حالیہ مہینوں میں منظر بدل چکا ہے۔ زمین وہی ہے، عبادت گاہیں وہی ہیں، مگر ہوا میں اب سکون کی نہیں بلکہ سسکیوں کی گونج ہے۔ جنسی استحصال، کم عمر لڑکیوں کی گمشدگیاں، اور اجتماعی قبروں کی دریافت— یہ سب محض خبریں نہیں، بلکہ اس مقدس مقام کی پہچان پر ایک لرزہ خیز سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔
کبھی کبھی وہ مقامات، جہاں دلوں کو سکون ملتا ہے، وقت کے ساتھ ظلم کے قبرستان میں بدل جاتے ہیں۔ دھرمستھلا—جسے ریاستی عقیدت کا مرکز کہا جاتا ہے—آج ان صداؤں کے حصار میں ہے جو برسوں سے خاموش کر دی گئی تھیں۔ اب جب ایک سابق صفائی ملازم نے عدالت میں سنسنی خیز گواہی دی کہ "مجھے مجبور کیا گیا کہ میں ان لڑکیوں کی لاشیں دفناؤں جنہیں زیادتی کے بعد قتل کیا گیا", تو تاریخ نے اپنی بند آنکھیں کھول لیں۔ اس گواہی کی فورنزک، مقامی شہادتوں، اور برآمد شدہ انسانی باقیات نے تصدیق کر دی کہ یہ محض الزام نہیں بلکہ ایک منظم درندگی کی علامت ہے۔ یہ کہانی اُس وقت قومی سطح پر ابھری جب 4 اکتوبر 2012 کو 17 سالہ طالبہ سوجنیا کی لاش دھرمستھلا کے قریبی علاقے سے نیم برہنہ حالت میں برآمد ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق اُسے اغوا کیا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور پھر بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر مقامی پولیس نے محض رسمی کارروائی کرتے ہوئے ایک ذہنی طور پر معذور شخص کو گرفتار کر کے کیس بند کر دیا۔ تاہم سوجنیا کے والدین، سماجی کارکنان، اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس پر شدید اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قتل کسی منظم گروہ کا نتیجہ ہے، جسے بااثر شخصیات تحفظ دے رہی ہیں۔
"ستم شعاروں کی بستی میں عدل کی صدا کون لگائے؟" کی مانند سوجنیا کیس نے دھرمستھلا میں پہلی بار اس خاموشی کو توڑا، جو کئی برسوں سے مظلوم بیٹیوں کے خون پر چھائی ہوئی تھی۔ ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکلے، جن میں انسانی حقوق کے کارکن، طلبہ، خواتین تنظیمیں اور چند سماجی و مذہبی رہنما بھی شامل تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ "یہ ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک سلسلہ ہے، جسے منظم طریقے سے دبایا جا رہا ہے۔"تاہم حیرت انگیز طور پر قومی میڈیا نے اس معاملے کو خاطر خواہ کوریج نہیں دیا۔ کیا یہ اس لیے کہ متاثرہ ایک عام لڑکی تھی؟ یا اس لیے کہ جس زمین پر ظلم ہوا، وہ ایک مذہبی عقیدت کا مرکز تھی؟ یہ وہ سوالات تھے جن کے جوابات کسی کے پاس نہ تھے۔ برسوں بعد، جون 2025 میں ایک سابق ہندو جاگرن ویدیکے کارکن مہیش شیٹی تیماروڈی نے باضابطہ شکایت درج کرائی کہ دھرمستھلا اور اس کے اطراف میں درجنوں خواتین کو جنسی تشدد کے بعد قتل کر کے اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ مذہبی طاقتوں کے اثر و رسوخ میں ہوتا رہا، اور مقامی نظامِ انصاف نے ہمیشہ آنکھیں بند رکھیں۔
اس الزام کے بعد کرناٹک حکومت نے بالآخر ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ اب تک کی تفتیش میں 4 مختلف مقامات پر انسانی باقیات کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، جنہیں مزید جانچ کے لیے ڈی این اے لیبارٹری بھیجا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پچھلے 20 برسوں میں درج کی گئی خواتین کی گمشدگی کی فہرست بھی دوبارہ کھنگالی جا رہی ہے۔ ایس آئی ٹی کو اب تک دھرمستھلا کے مضافات میں کم از کم 3 مشتبہ اجتماعی قبریں ملی ہیں، جہاں انسانی ہڈیاں، کپڑے، اور دیگر باقیات ملی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ وہ علاقے ہیں، جہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع تھا۔ ان میں سے کچھ جگہیں مذہبی اراضی قرار دی گئی تھیں، جن پر برسوں سے بااثر ٹرسٹوں یا افراد کا قبضہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ نظامی زیادتی کا شاخسانہ ہے۔ ایسی کارروائیاں اُس وقت پنپتی ہیں، جب مذہب، سیاست، پولیس اور پیسہ ایک دوسرے کے محافظ بن جائیں، اور کمزور عوام ان کے سامنے لاچار رہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ آج تک نہ کوئی مرکزی رہنما اس مسئلے پر کھل کر بول سکا، نہ کوئی مذہبی ادارہ۔ حزبِ اختلاف نے چند بیانات ضرور دیے، لیکن وہ بھی رسمی نوعیت کے تھے۔ کچھ رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ "عقیدت" متاثر نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر مذہبی مقام پر انصاف دفن ہو جائے، تو عقیدت باقی کس کام کی؟یہ معاملہ صرف دھرمستھلا کا نہیں، بلکہ ہندوستان کی ہر اُس بیٹی کا ہے، جو عدل و انصاف کی منتظر ہے۔ یہ وقت ہے کہ معاشرہ، میڈیا، حکومت اور انصاف کے ادارے ایک واضح پیغام دیں: خاموشی اب جرم ہے، اور سچائی ہی عبادت۔
سمیر ایم ڈی ،جرأت مند آواز، بیدار ضمیر: اس پورے معاملے میں اگر کسی نے سماج کو جھنجھوڑا تو وہ مسلم نوجوان یوٹیوبر اور محقق سمیر ایم ڈی ہے،انہوں نے نہ صرف سوجنیا کیس کی تہوں کو کھولا، بلکہ دھرمستھلا کے سائے میں دبے دیگر واقعات پر بھی تحقیق کی۔اُن کی رپورٹس نے سوشل میڈیا پر عوام کو جھنجھوڑا ۔عوامی دھرنوں، مظاہروں، اور ڈیجیٹل دستخطی مہمات کو تحریک ملیحکومتی سطح پر ایس آئی ٹی کی تشکیل میں ان کی رپورٹنگ ایک ٹرگر پوائنٹ ثابت ہوئییہ وہ صحافت ہے جو سچ کی قیمت پر کی جاتی ہے — نہ کہ ٹی آر پی کی بنیاد پر۔
یہ انکشاف کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ سوجنیا، پدمالتا، اننیا بھٹ جیسے نام اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ظلم برسوں سے جاری تھا، بس کوئی چیخ سننے کو تیار نہ تھا۔ سوجنیا قتل کیس (2012) میں 17 سالہ طالبہ کی لاش درختوں کے جھنڈ سے نیم برہنہ حالت میں ملی۔ پہلے پولیس نے خودکشی قرار دیا، پھر عوامی احتجاج کے بعد کیس سی آئی ڈی کے سپرد کیا گیا۔ 13 سال بعد، نئی گواہی اور شواہد نے کیس کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔پدمالتا کیس (1987)مندر کے قریب ایک نابالغ لڑکی کی لاش ملی۔ کوئی ثبوت نہ ملا، لہٰذا کیس بند۔ اب دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔اننیا بھٹ گمشدگی (2003)ایک ذہین طالبہ، جو دھرمستھلا تعلیمی دورے پر گئی تھی، کبھی واپس نہیں آئی۔ فائلیں بند رہیں، مگر اب ایس آئی ٹی کی توجہ حاصل ہے۔
دھرمستھلا میں ہونے والے یہ واقعات محض جرم نہیں، بلکہ تہذیب، مذہب اور نظام عدل کی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس سماج میں مقدس ادارے سوالوں سے بالاتر سمجھے جائیں، وہاں انصاف دفن ہو جاتا ہے،پولیس نے اکثر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا یا تاخیر کی۔سیاستدانوں نے خاموشی کو مصلحت کا نام دے کر جرم کی پردہ پوشی کی۔میڈیا نے "مذہبی حساسیت" کے نام پر سچ کو پس منظر میں دھکیل دیا۔حالیہ گواہیوں اور انسانی باقیات کی دریافت کے بعد حکومت کرناٹک نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) بنائی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایس آئی ٹی آزاد اور غیرجانبدار رہے گی؟کیا سیاسی یا مذہبی دباؤ سے بچا جا سکے گا؟کیا ماضی کے بند کیسز دوبارہ کھلیں گے؟یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ ماضی میں کئی تحقیقاتی کمیشن صرف وقتی دباؤ کا جواب ثابت ہوئے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاست دانوں کے لیے عقیدت ایک "ووٹ بینک" ہے، اور وہ کسی بھی صورت اسے ناراض نہیں کرنا چاہتے۔میڈیا کا کام "سچ دکھانا" ہے، مگر جب مذہبی مقامات اور مذہبی ادارےخبر سے بڑے ہو جائیں، تو مظلوم کی آواز دب جاتی ہے۔سماج بھی خاموش تماشائی بنا رہتا ہے، جب تک اس کا اپنا دامن نہ جلنے لگے۔یہ معاملہ عورتوں کے تحفظ، قانون کے نفاذ، اور مذہب کی محدود تعریف کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کا تقاضا کرتا ہے۔اگر عورت انصاف مانگے، تو اسے بدنامی کا سامنا ہو۔اگر عدالت خاموش ہو، تو سچ قبر میں اتر جائے۔اگر مذہب سوال سے بالاتر ہو، تو استحصال مقدس بن جاتا ہے۔
"یہ محض ایک لڑکی کی چیخ نہیں،
یہ اس خاموشی کی بازگشت ہے جو برسوں سے عقیدت کے میناروں سے ٹکرا رہی تھی۔"
اب وقت آ گیا ہے کہ ایس آئی ٹی کو مکمل آزادی دی جائے،تمام پرانے کیسز دوبارہ کھولے جائیں ،مذہبی اداروں کے احتساب کا نظام بنایا جائےاور سب سے اہم، سچ کو عبادت سمجھ کر قبول کیا جائے
"نہ پوچھ درد کا احوال ہر کسی سے،
یہ وہ سزا ہے جو خاموشی سناتی ہے…"