
کاروار ،28 / جنوری (ایس او نیوز) ضلع میں سڑک حادثوں کی تعداد میں ہو رہے اضافے کا اشارہ اس بات سے ملتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران میں سڑک حادثات کی وجہ سے 726 افراد کی جان گئی جبکہ 5124 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
اتر کنڑا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن نے اپنے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر حادثے نیشنل ہائی وے پر پیش آ رہے ہیں اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ حادثوں کے اسباب میں ہائی وے کی حالت کا بھی حالت ہے ۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2023 میں 233 حادثے پیش آئے تھے جس میں 248 افراد کی موت واقع ہوئی تھی اور 1749 لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ سال 2024 میں 249 حادثے پیش آئے تھے جس میں 264 افراد نے جان گنوائی تھی جبکہ 1622 افراد زخمی ہوئے تھے ۔ سال 2025 میں 192 حادثے ہوئے جس میں 214 افراد کی موت کا شکار ہوئے تھے اور 1763 لوگ زخمی ہوئے ۔
ضلع ایس پی نے بتایا کہ اتر کنڑا ضلع میں موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت بہت زیادہ ہے ۔ سیاحتی ضلع ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد ہوتی ہے ۔ سڑک حادثات پر روک لگانے کے لئے بہت سارے اقدامات کیے گئے ہیں ۔ لیکن بارش کے موسم میں سڑکوں کی حالت بہت زیادہ خراب ہو جاتی ہے اور سڑک پر پڑنے والے گڈھوں کی وجہ سے یہاں حادثوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
جرمانہ اور لائسنس معطلی :انہوں نے بتایا کہ ضلع میں موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت 141,870 معاملے درج کیے گئے ۔ سال 2025 کے دورانیہ میں تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانے کے 1139 معاملے درج کیے گئے ۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے جرمانے کی شکل میں 2.84 کروڑ روپے وصول کیے گئے ۔ 810 ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے گئے ۔
بنگلہ دیشیوں کے معاملے سامنے نہیں آئے :ایس پی دیپن نے ضلع میں بنگلہ دیشیوں کی موجودگی کے تعلق سے بتایا کہ اتر کنڑا میں تا حال بنگلہ دیشیوں کو تلاش کرنے کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ اس تعلق سے ابھی تک کوئی شکایت بھی موصول نہیں ہوئی ہے ۔ البتہ آدھار کارڈ اصلی ہے یا نہیں یہ پتہ لگانے کی کارروائی کی گئی ہے ۔ مزدوری اور ملازمت کے لئے ضلع میں آنے والے لوگوں کی طرف سے یہاں پر ہی آدھار کارڈ بنوانے کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی جا رہی ہے ۔
بھٹکل میں 15 پاکستانی شہری :پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بھٹکل میں اس وقت 15 پاکستانی شہری موجود ہیں ۔ ان میں 12 خواتین اور تین بچے شامل ہیں ۔ مگر ان سب کے پاس قلیل مدتی ویزا موجود ہے، جس کی بنیاد پر وہ یہاں مقیم ہیں ۔
ضلع میں چوری کی وارداتیں :ایس پی نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران ضلع میں چوری کی وارداتیں تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہیں ۔ ان کے ذریعے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 اور2025 کے دورانیہ میں ضلع میں 550 چوری کی وارداتیں پیش آئیں اور زیورات یا نقدی کی شکل میں جملہ 11 کروڑ 66 لاکھ روپے لوٹے گئے ۔ ان میں سے 241 معاملوں کو پولیس نے حل کیا ہے اور صرف 4 کروڑ 93 لاکھ روپے مالیت کے زیورات یا نقدی واپس حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے ۔ بقیہ معاملوں کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے ۔
گھروں کو لوٹنے کے معاملوں میں اضافہ :ضلع میں ہوئی چوری اور لوٹ کی وارداتوں کا جائزہ لینے پر گھروں میں گھس کر انجام دی گئی چوری کی وارداتوں میں اضافہ نظر آتا ہے ۔ سال 2024 میں گھروں کو لوٹنے کے 99 کیس سامنے آئے تھے جبکہ 2025 میں 89 معاملے پیش آئے ۔ اس کے علاوہ کونکن ریلوے سے سفر کے دوران لگیج چرانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں ۔
جرائم کی روک تھام کے لئے اقدامات :ایس پی نے بتایا کہ ضلع میں خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی گمشدگی کے جملہ 332 واقعات پیش آئے جن میں سے 301 معاملوں میں گم شدہ افراد کا پتہ لگایا گیا - پانچ سے دس پرانے 'کولڈ کیس' کے زمرے میں رکھے گئے 11 معاملوں کو حل کیا گیا ۔ غنڈوں کے خلاف بلا تردد کارروائی کی گئی ہے ۔ انکولہ کے پرشانت اور منڈگوڈ کے کرن سولنکی کو ضلع بدر کیا گیا ہے ۔ مٹکہ کے 430، جوئے بازی کے 146 اور منشیات فروشی کے 295 معاملوں میں سخت کارروائی کی گئی ہے ۔