ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام، پریس کانفرنس سے شفافیت کے بجائے شکوک میں اضافہ: کانگریس اور انڈیا اتحاد، سدارامیا کا سخت ردعمل

الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام، پریس کانفرنس سے شفافیت کے بجائے شکوک میں اضافہ: کانگریس اور انڈیا اتحاد، سدارامیا کا سخت ردعمل

Mon, 18 Aug 2025 18:40:35    S O News

بنگلورو، 18 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی): الیکشن کمیشن آف انڈیا کی حالیہ پریس کانفرنس پر اپوزیشن نے سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمیشن نے غیر جانبدار ریفری کی طرح کام کرنے کے بجائے حکمراں جماعت بی جے پی کے آلہ کار کا کردار ادا کیا ہے۔ کانگریس اور انڈیا اتحاد کا کہنا ہے کہ اس پریس کانفرنس نے شفافیت پیدا کرنے کے بجائے عوامی شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ سدارامیا نے ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے ردعمل میں کہا کہ راہل گاندھی نے بنگلورو سنٹرل حلقے میں کمیشن کے اپنے ہی اعداد و شمار کے ذریعے سنگین تضادات کو اجاگر کیا تھا، مگر ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے کمیشن نے حزبِ اختلاف کو دھمکانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کا یہ کہنا کہ اگر مسئلہ ہے تو "حلف نامے اور حلف" دے کر ثابت کریں، نہایت غیر ذمہ دارانہ اور مضحکہ خیز رویہ ہے۔

کانگریس نے نشاندہی کی کہ کمیشن نے جعلی اور ڈپلیکیٹ ووٹروں کے الزامات کو اس دلیل کے ساتھ مسترد کیا کہ 45 دن کی کلیمز ونڈو کے دوران کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔ پارٹی کا موقف ہے کہ یہ محض ذمہ داری سے بچنے کا بہانہ ہے، کیونکہ خود کمیشن نے ووٹر لسٹ کا ڈیٹا اس طرح پیش کیا کہ وہ عوام اور سیاسی جماعتوں کے لیے ناقابلِ رسائی ہو گیا۔ ایک ہی اسمبلی حلقے کی ہزاروں صفحات پر مشتمل فہرستوں کو باریک بینی سے دیکھنے کے بعد تضادات سامنے لائے گئے ہیں۔ اگر ایک نشست میں یہ حال ہے تو پورے ملک میں صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سدارامیا نے الزام لگایا کہ کمیشن نے مشین ریڈ ایبل الیکٹورل رول دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ اس سے پرائیویسی متاثر ہوگی، حالانکہ انتخابی فہرستیں پہلے ہی عوامی ریکارڈ ہیں۔ اسی طرح ووٹنگ بوتھ کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کو صرف 45 دن بعد تلف کر دینا ووٹروں کی حفاظت نہیں بلکہ "غلطیوں اور دھاندلیوں کو چھپانے" کی کوشش ہے۔

اپوزیشن نے مزید سوال اٹھایا کہ بہار میں سیلاب کے دوران اتنی جلدی اسپیشل ریویژن کیوں کرائی گئی؟ مہاراشٹر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان اچانک 70 لاکھ ووٹروں کا اضافہ کیسے ہوا؟ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد سے کیوں گریز کیا گیا؟ اور راہل گاندھی کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

کانگریس کا کہنا ہے کہ جمہوریت عوام کے اعتماد پر قائم ہے، لیکن الیکشن کمیشن کے حالیہ رویے نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ جب تک کمیشن ہر ووٹ کی دیانتداری سے حفاظت نہیں کرتا، اس کی غیر جانبداری اور ساکھ پر سوالیہ نشان قائم رہیں گے۔


Share: