بنگلورو29/مئی (ایس او نیوز):مینگلور کے قریب بنٹوال میں مسلم نوجوان عبدالرحمن کے قتل کے بعد عام مسلمانوں کے ساتھ مسلم قائدین میں بھی جس طرح کی ناراضگی پائی جارہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی. پرمیشور نے اعلان کیا ہے کہ ساحلی کرناٹک کے حساس علاقوں میں—جن میں دکشن کنڑا، اُڈپی اور شیموگہ اضلاع شامل ہیں—میں فرقہ وارانہ تشدد سے نمٹنے کے لیے سخت اور بے لاگ کارروائی کی جائے گی۔
جمعرات کو سداشیو نگر میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ منگلورو میں حالیہ پیش آئے واقعے کو حکومت نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ "ہم بغیر کسی جھجک کے سخت کارروائی کریں گے۔ اگر بار بار ایسے واقعات پیش آتے رہیں تو خاموش بیٹھنا ممکن نہیں۔ ہم قانون کو مزید سخت بنائیں گے۔"
انہوں نے کہا کہ گزشتہ واقعات کے بعد حالات کا جائزہ لے کر حکومت نے فوری طور پر فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پانے کے لیے ایک خصوصی فورس تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے، اور ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو اس پر فوری عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے مزید بتایا کہ نکسل مخالف فورس کے تقریباً نصف اہلکاروں کو فرقہ وارانہ تشدد کے انسداد کے لیے مخصوص فورس میں شامل کیا جائے گا، اور انہیں مکمل اختیارات اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان تین اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
نفرت انگیز جذبات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا، "اگر سماج میں نفرت پھیل جائے تو وہاں زندگی کیسے ممکن ہوگی؟ حکومت اس پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔"
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ منگلورو میں نوجوان کے قتل کی تحقیقات میں اہم شواہد ملے ہیں اور ان کی بنیاد پر سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ نے عوامی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے حکومت سے تعاون کریں۔