بنگلورو، 22 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی):کرناٹک حکومت نے ریاست میں زرعی ترقی اور کسانوں کو توانائی کے معاملے میں خود کفیل بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے "کُسُم-بی" اسکیم کے تحت 40 ہزار شمسی پمپ سیٹس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ پیر کو وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں اسکیم کی پیش رفت اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ سدارامیا نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ کُسُم-بی اسکیم کے تحت منظور شدہ سولار پمپوں کی جلد از جلد تنصیب کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اس اسکیم کے تحت پمپ سیٹ کی مجموعی لاگت پر 30 فیصد سبسڈی مرکزی حکومت، 50 فیصد ریاستی حکومت فراہم کرے گی، جب کہ کسانوں کو صرف 20 فیصد خرچ برداشت کرنا ہوگا۔ حکومت کے مطابق، اب تک 25 ہزار سے زائد کسانوں نے اس اسکیم کے لیے اضافی درخواستیں دی ہیں، جس سے اس اسکیم کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ریاستی حکومت نے اس اسکیم کے لیے 752 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ حکام کے مطابق، اسکیم کی مؤثر عمل آوری سے بجلی پر ملنے والی سبسڈی کے بوجھ میں بھی کمی آئے گی، ساتھ ہی کسانوں کو شمسی توانائی کے ذریعے پائیدار حل فراہم ہوگا۔
ریاست میں اس وقت تقریباً 4.5 لاکھ غیر مجاز آبپاشی پمپ سیٹس موجود ہیں، جن میں سے 2 لاکھ کو اب تک باقاعدہ منظوری دی جا چکی ہے۔ اجلاس میں ان غیر مجاز سیٹس کو بھی ترجیحی بنیاد پر اسکیم کے دائرے میں شامل کرنے پر غور کیا گیا تاکہ تمام کسانوں کو یکساں فائدہ پہنچایا جا سکے۔
کسانوں کو اپنی بجلی خود پیدا کرنے کے لیے سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے ریاستی محکمہ بجلی ٹرانسفارمر مہیا کرے گا۔ حکام نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 میں زرعی پمپ سیٹس کے لیے 12,785 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے اب تک 11,720 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے اس مد میں 16,021 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس اہم اجلاس میں ریاستی وزیر برائے توانائی کے جے جارج، وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری نصیر احمد اور دیگر اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔