ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹکا حکومت نے تشکیل دی اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس - سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے بھی قائم ہوگی نئی یونٹ

کرناٹکا حکومت نے تشکیل دی اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس - سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے بھی قائم ہوگی نئی یونٹ

Mon, 04 Aug 2025 19:53:37    S O News

بینگلورو،  4 / اگست (ایس او نیوز) کرناٹک حکومت نے منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت پر  روک لگانے کے لیے ایک انسداد منشیات ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) قائم کی ہے، جس میں 66 اہلکاروں کی تعیناتی کو منظوری دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ سائبر کرائم کی وارداتوں پر قابو پانے کے ایک الگ یونٹ قائم کی گئی ہے ۔
    
یکم اگست کو جاری کردہ سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ  نو تشکیل شدہ اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) کے درجے کا ایک افسر کرے گا، جو براہ راست ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (سائبر کمانڈ) کو رپورٹ کرے گا ۔

حکم نامے کی تفصیلات کے مطابق اے این ٹی ایف کے لیے 10 نئ عہدے وضع کیے گئے ہیں، جبکہ عملے کے بقیہ 56 ارکان کو اینٹی نکسل فورس (اے این ایف) سے لیا جائے گا ۔ جو نئے عہدے بنائے گئے ہیں ان میں دو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس  اور دو اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کے علاوہ اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹو آفیسر، سیکشن سپرنٹنڈنٹ، جونیئر اسسٹنٹ، فرسٹ ڈویژن اسسٹنٹ، اسٹینو گرافر اور دلایت شامل ہیں ۔ بقیہ 56 اہلکاروں میں دو پولیس انسپکٹرز اور چار پولیس سب انسپکٹرز (پی ایس آئی)، 20 ہیڈ کانسٹیبل اور 30 کانسٹیبل شامل ہوں گے ۔

ایک سینئر آئی پی ایس افسر نے بتایا کہ اے این ٹی ایف کو ریاست بھر میں منشیات کی اسمگلنگ، تقسیم اور استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے ایک خصوصی فورس کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے ۔ ٹاسک فورس کا مقصد منشیات کے منظم نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے اضلاع، مرکزی اور انٹلی جنس یونٹس کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے ۔    

سائبر کرائم پریوینشن یونٹ:آن لائن فراڈ اور دیگر سائبر جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کو مضبوط بنانے کے لیے کریاستی حکومت نے سائبر کرائم پریوینشن یونٹ قائم کرکے اپنے طریقہ کار کو بھی از سر نو تشکیل دیا ہے۔ اس سمت میں پیش قدمی کے ایک حصے کے طور پر ریاست بھر میں 43 سی ای این (سائبر، اکنامک اور نارکوٹک) پولیس اسٹیشنوں کا نام بدل کر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن رکھا جائے گا ۔ اس کے طریقہ کار میں

تبدیلی کے ایک حصے کے طور پر ان اسٹیشنوں سے منشیات اور معاشی جرائم کے مقدمات کے اندراج کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے ۔ یہ مقدمات اب مقامی تھانوں میں درج کیے جائیں گے ۔ سائبر یونٹس کو انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کے تحت مقدمات درج کرنے کے لیے با اختیار بنایا جائے گا  جس سے ریاست میں سائبر جرائم  پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے اور موثر طریقے سے ان سے نمٹنے کو یقینی بنایا جائے گا ۔    

ایک سینئر آئی پی ایس افسر نے کہا کہ از سر نو منظم کی گئی سائبر یونٹس اب خصوصی طور پر سائبر جرائم پر توجہ مرکوز کریں گی ۔ سی ای این پولیس اسٹیشن اب تک تین بڑے اور پیچیدہ نوعیت کے جرائم کے معاملے سنبھال  رہے تھے ۔ ان جرائم کی گتھیاں سلجھانے میں ماہرین کی کمی کی وجہ سے اکثر عملے پر بڑا بوجھ رہتا ہے ۔ ڈیجیٹل جرائم کی تعداد میں اضافے کے ساتھ  ریاستی حکومت نے اب سائبر جرائم کی روک تھام کا یونٹ بنا کر تفتیش کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔


Share: