میسورو، 9 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا نے اعلان کیا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں مبینہ ووٹ فراڈ اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ محکمۂ قانون کے ذریعے کرائی جائے گی، اور ایڈوکیٹ جنرل کی سفارشات کی روشنی میں ضروری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
میسورو ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ووٹ فراڈ کے معاملے پر حکومت کو فوری کارروائی کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی ایم پی انتخابات سے قبل اس معاملے کی مکمل اور تیز رفتار جانچ کی جائے گی، اور ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔
سدارمیا نے وضاحت کی کہ ووٹر لسٹ سے متعلق مکمل اختیارات صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہیں۔ سابق وزیر سی ایم ابراہیم کے اس الزام پر کہ انہوں نے بادامی حلقے میں تین ہزار ووٹ خرید کر کامیابی حاصل کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ "ابراہیم ہماری پارٹی کے نہیں ہیں۔ میں بادامی صرف نامزدگی داخل کرنے اور انتخابی مہم کے لیے گیا تھا، اور 1600 ووٹوں سے کامیاب ہوا۔ اس الزام کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، یہ میرے لیے بالکل نیا ہے اور اس بارے میں مجھے کچھ علم نہیں۔"
بی جے پی کے اس سوال پر کہ کانگریس اب ووٹ فراڈ کی بات کیوں کر رہی ہے، سدارمیا نے جواب دیا کہ "بی جے پی جھوٹ بول رہی ہے۔ ہماری اندرونی سروے رپورٹ کے مطابق ہم لوک سبھا انتخابات میں 16 نشستیں جیتنے والے تھے، لیکن ہمیں صرف 9 نشستیں ملیں۔ راہول گاندھی نے اس معاملے میں ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں، جو ریاستی اور مرکزی الیکشن کمیشن دونوں کے پاس موجود ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ "کیا ایک چھوٹے سے کمرے میں 80 لوگ رہ سکتے ہیں؟ ہم نے اس پر تحقیق کی اور حقائق سامنے آئے۔ الیکشن کمیشن میں عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے عدلیہ کو اس معاملے میں خود نوٹس لینا چاہیے۔"
ضمنی انتخابات میں مردہ افراد کے ووٹ ڈالنے سے متعلق وائرل ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر واقعی مردہ افراد نے ووٹ ڈالے ہیں تو اس کی براہِ راست ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔