بنگلورو، 5/ اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) کرناٹک کے وزیر برائے مالگزاری (ریونیو) کرشنا بائرے گوڈا نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی "نَنّا بھومی گارنٹی مہم" کے تحت دسمبر 2025 تک دو لاکھ زرعی زمینوں کی پوڈی (سروے و تقسیم) کی کارروائی مکمل کی جائے گی، جس سے تقریباً 30 لاکھ کسان مستفید ہوں گے۔
وزیر موصوف نے وِکاس سودھا میں ریاست کے ضلعی ڈپٹی کمشنروں کی ماہانہ جائزہ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ آٹھ مہینوں کے دوران 1,09,000 زمینوں کی پوڈی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ سابقہ حکومت نے تین سالوں میں صرف 5,801 معاملات میں ہی پوڈی کی کارروائی انجام دی تھی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پچھلی تین تا چار دہائیوں سے ہزاروں کسان پوڈی کی منظوری کے باوجود زمین کی درست تقسیم نہ ہونے کے سبب مشکلات کا شکار تھے، لیکن موجودہ حکومت نے خود کسانوں کے گھروں تک پہنچ کر بغیر کسی درخواست کے پوڈی کا عمل تیز رفتاری سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کرشنا بائرے گوڈا نے کہا کہ ہاڈی، ہٹی، تانڈا اور دیگر پسماندہ دیہاتوں کو ریونیو گرام (کندایا دیہات) کا درجہ دینے کی کارروائی جاری ہے۔ کانگریس حکومت نے اقتدار میں واپسی کے بعد 4,250 غیر نوٹیفائیڈ بستیوں کو ریونیو دیہات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا، جن میں سے اکثریت کو دسمبر تک نوٹیفائی کر دیا جائے گا۔ اب تک 1.11 لاکھ مستحقین کو حقِ ملکیت (حق پتر) جاری کیے جا چکے ہیں، اور مزید 1.62 لاکھ خاندانوں کو نومبر کے اختتام تک ای-کھاتہ رجسٹریشن کے ساتھ اسناد دی جائیں گی۔
ریونیو وزیر نے مزید بتایا کہ ریاست کے 8,357 ولیج اکاؤنٹس آفیسرز میں سے 7,405 کو گرام پنچایت عمارتوں میں دفاتر فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ بقیہ 952 افسران کو بھی جلد دفاتر دیے جائیں گے۔ اب تک 4,000 ولیج اکاؤنٹس کو لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے ہیں، اور اگلے مہینے سے ساری سرکاری فائلنگ اور ڈاک نظام کو مکمل طور پر ای-آفس میں منتقل کر دیا جائے گا تاکہ عوامی خدمات میں تیزی آئے۔
وزیر موصوف نے ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں 52 لاکھ زرعی زمینیں اب بھی مرحوم افراد کے نام پر درج ہیں، جس کی وجہ سے PM-Kisan جیسی اسکیموں کے فوائد حقیقی کسانوں تک نہیں پہنچ رہے۔ اس صورتحال کے سدباب کے لیے حکومت نے "فوتی کھاتہ مہم" شروع کی ہے، جس کے تحت اب تک 2.30 لاکھ زمینوں کی منتقلی وارثین کے نام کی جا چکی ہے۔ اس عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے افسران کو ہر معاملے پر 6 روپے ترغیبی رقم بھی دی جا رہی ہے۔
آخر میں کرشنا بائرے گوڈا نے ریاستی حکام کو تاکید کی کہ ریاست کے آبی ذخائر کا مؤثر انداز میں انتظام کریں، کیونکہ ستمبر میں بارش کی صورتحال غیر یقینی رہ سکتی ہے، جس سے پانی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔