بنگلورو، 5 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) کرناٹک کے وزیر صحت و خاندانی بہبود دنیش گنڈو راؤ نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست میں دوا اور خوراک کی حفاظت کے لیے سخت اصلاحات اور اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت غیر معیاری ادویات، مضر صحت خوراک اور ناقص اشیاء کی فروخت کے خلاف سنجیدہ قانونی کارروائی کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر، محفوظ اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ آیوش (آیوروید، سدھ، یونانی) اور دیگر متعلقہ شعبوں کو اب ڈرگ کنٹرول محکمے میں ضم کر دیا گیا ہے تاکہ تمام قسم کی ریگولیٹری کارروائیاں ایک ہی کمانڈ کے تحت انجام دی جا سکیں اور ان پر مؤثر نگرانی رکھی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 میں ریاست بھر سے 1,433 دواؤں کے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 59 کو غیر معیاری پایا گیا۔ غیر معیاری ادویات کو مارکیٹ سے ہٹانے کی مدت، جو پہلے 30 دن تھی، اب گھٹا کر صرف 2 دن کر دی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت اب تک 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ادویات ضبط کی جا چکی ہیں۔ اسی سلسلے میں 279 دواساز اداروں کا معائنہ کیا گیا، 231 اداروں کو شوکاز نوٹس جاری کی گئیں اور 29 کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔
وزیر صحت نے مزید بتایا کہ دوا اور خون کے مراکز کی تمام اجازتیں اب آن لائن ONDLS پورٹل کے ذریعے جاری کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح RMI سرٹیفیکیٹ سمیت تمام خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔
خوراک کی حفاظت کے شعبے میں کی گئی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جولائی کے دوران 3,489 خوراک کے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 17 کو غیر محفوظ اور 18 کو غیر معیاری قرار دیا گیا۔ فٹ پاتھ فروشوں کی جانچ میں 1,557 دکاندار شامل رہے، جن میں سے 406 کو نوٹس جاری کیے گئے اور 44,500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ 1,240 چھوٹے فروشوں کو خوراک کی صفائی اور معیار پر تربیت دی گئی اور 866 کو باقاعدہ رجسٹریشن فراہم کیا گیا۔
ریاست کے مختلف مقامات بشمول بس اسٹینڈز پر 889 فوڈ آؤٹ لیٹس کی جانچ کی گئی، جن میں سے 206 کو نوٹس جاری کیے گئے اور 55,000 روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا۔ اس کے علاوہ 603 آنگن واڑی مراکز کی جانچ کی گئی، اور 545 خوراک کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے۔ مشہور ہوٹلوں سے لیے گئے 6 کباب کے نمونے مصنوعی رنگ کے باعث غیر محفوظ پائے گئے، جن پر قانونی کارروائی جاری ہے۔
اسی طرح 175 دودھ کے نمونے بھی لیے گئے، جن میں سے 4 غیر معیاری پائے گئے، جبکہ 69 کو محفوظ قرار دیا گیا۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ آئل فیڈریشن، ایف ایس ایس آئی سی اور آر یو سی او جیسی ایجنسیوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لیبلنگ، ری سائیکلنگ اور مضر چکنائی (ٹرانس فیٹ) پر بھی زور دیا گیا ہے۔
آخر میں وزیر صحت دنیش گنڈو راؤ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اقدامات میں تعاون کریں اور معیاری، محفوظ اور صحت بخش خوراک اور دواؤں کے استعمال کو فروغ دیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ریاست میں صحت کے شعبے کو شفاف، مؤثر اور جواب دہ بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔