بینگلور 18/جولائی (ایس او نیوز) کرناٹک کے گوکرنا میں جنگلات کے بیچ واقع ایک غار میں اپنی دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ رہنے والی روسی خاتون نینا کوٹینا کو حراست میں لیے جانے کے چند روز بعد اب ان کے سابق شوہر اور اسرائیلی شہری درور گولڈسٹین نے بچیوں کی مشترکہ تحویل کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک باپ کی حیثیت سے اپنی بیٹیوں کی دیکھ بھال میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔
گولڈسٹین نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے گفتگو میں کہا: ’’میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ ہفتے میں چند دن اپنی بیٹیوں سے مل سکوں اور ان کی دیکھ بھال بھی کر سکوں۔ اگر وہ اب روس چلی جاتی ہیں تو ان سے رابطہ رکھنا مزید مشکل ہوجائے گا، اس لیے میری خواہش ہے کہ وہ بھارت میں ہی رہیں۔‘‘
38 سالہ گولڈسٹین نے بتایا کہ وہ ہر سال تقریباً چھ مہینے گوا میں گزارتے ہیں۔ ان کے مطابق، وہ گزشتہ کچھ سالوں سے نینا کوٹینا (40) سے الگ رہ رہے تھے اور چند مہینے قبل جب وہ اپنی بیٹیوں کو لے کر گوا سے روانہ ہوئیں تو ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
انہوں نے بتایا: ’’میں نے گوکرنا کے ایک ساحل پر انہیں ڈھونڈ نکالا، مگر نینا نے مجھے بچیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی، کیونکہ میں ان کے ساتھ نہیں رہتا۔‘‘
گولڈسٹین کے مطابق، ان کی ملاقات نینا کوٹینا سے 2017 میں گوا میں ہوئی تھی اور وہ کئی سال تک بھارت اور یوکرین کے درمیان سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ ان میں علیحدگی ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بار مارچ میں بھارت چھوڑ کر گئے تھے اور یوکرین میں جنگ کی وجہ سے وقت پر واپس نہیں آ سکے۔ جیسے ہی انہوں نے نینا اور بچیوں کی خبر سنی، فوری طور پر بنگلورو پہنچنے کی فلائٹ بک کی۔
انہوں نے بتایا کہ نینا کوٹینا چاہتی ہیں کہ وہ اکیلے ہی بچیوں کی پرورش کریں اور ابتدا ہی میں کہہ چکی ہیں کہ اگر وہ (گولڈسٹین) ان کے ساتھ ایک ہی گھر میں نہ رہیں تو بچوں سے کوئی رابطہ نہ رکھیں۔
گولڈسٹین نے انکشاف کیا کہ جب نینا گوا سے روانہ ہوئیں تو انہوں نے پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی، اور اب وہ قانونی طور پر بچیوں کی مشترکہ تحویل کے لیے زور دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ نینا کی مالی مدد پیدائش کے وقت سے کر رہے ہیں اور ہر سال چھ مہینے بھارت میں آکر ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، جب کہ باقی چھ مہینے دیگر مجبوریوں اور ویزا کی مدت کی وجہ سے بھارت سے باہر ہوتے ہیں۔
گولڈسٹین نے مزید بتایا کہ ان کی چھوٹی بیٹی اما کی پیدائش بھارت میں ہوئی تھی اور نینا گزشتہ پانچ سالوں سے بھارت میں رہ رہی ہیں۔ ’’میری معلومات کے مطابق اما بھارت کی شہری ہے اور اسے ملک بدر نہیں کیا جانا چاہیے،‘‘ انہوں نے کہا۔
خیال رہے کہ 11 جولائی کو پولیس کو گوکرنا کے راما تیرتھ پہاڑیوں میں ایک غار میں نینا اور ان کی دو بیٹیوں — پریمہ (6) اور اما (4) — کی موجودگی کا پتہ چلا تھا۔ ایک لینڈ سلائیڈ کے بعد جب پولیس علاقے کا معائنہ کر رہی تھی تو ان تینوں کو غار میں تنہائی کے عالم میں پایا گیا۔ پولیس کے مطابق وہ تقریباً تین ہفتے سے غار میں رہ رہی تھیں۔
قبل ازیں پی ٹی آئی سے ایک انٹرویو میں نینا کوٹینا نے میڈیا میں ان کی زندگی کی تصویر کشی پر اعتراض کیا تھا اور انہیں غار سے نکال کر جس مقام پر رکھا گیا ہے، اس پر بھی شکایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا: ’’ہمیں ایک ایسی جگہ رکھا گیا ہے جہاں صفائی نہیں ہے، کوئی پرائیویسی نہیں ہے، اور کھانے میں صرف سادہ چاول دیے جاتے ہیں۔ ہماری کئی اشیاء ضبط کرلی گئی ہیں، جن میں میرے بیٹے کی راکھ بھی شامل ہے جو نو ماہ قبل انتقال کر گیا تھا۔‘‘
اس معاملے نے نہ صرف میڈیا بلکہ قانونی و انسانی حقوق کے حلقوں میں بھی توجہ حاصل کر لی ہے، اور امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں عدالت میں بچوں کی تحویل کا فیصلہ زیر غور آئے گا۔