ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں ذات پر مبنی سماجی و تعلیمی مردم شماری کا اعلان، 7 کروڑ افراد پر مشتمل سروے ستمبر سے شروع ہوگا، وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ

کرناٹک میں ذات پر مبنی سماجی و تعلیمی مردم شماری کا اعلان، 7 کروڑ افراد پر مشتمل سروے ستمبر سے شروع ہوگا، وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ

Wed, 23 Jul 2025 18:04:11    S O News

بنگلورو، 23 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی)ریاست کرناٹک میں ذات پر مبنی سماجی و تعلیمی مردم شماری کی باقاعدہ تیاری کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں پیر کو ودھان سودھا میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں اس حساس اور اہم سروے کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ یہ مردم شماری سماجی انصاف کو یقینی بنانے اور ذات پات پر مبنی امتیاز کو ختم کرنے کی سمت ایک تاریخی قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کی تجویز پر 7 کروڑ عوام کا جامع سروے کیا جائے گا، جس میں ہر فرد کی ذات، تعلیمی پس منظر، معاشی حالت، زمین کی ملکیت اور دیگر سماجی و معاشرتی عوامل کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے گا۔

یہ مردم شماری 22 ستمبر سے 7 اکتوبر 2025 تک پندرہ دنوں میں مکمل کی جائے گی، اور رپورٹ اکتوبر کے آخر تک ریاستی حکومت کو پیش کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ سروے کے عملے کی تربیت اور انتظامات کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ وقت پر سروے کو شفاف، سائنسی اور منظم انداز میں مکمل کیا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس بار کسی بھی شہری کو سروے سے محروم نہ رکھا جائے، اور تمام تر تیاریوں کے ساتھ ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس میں بے ضابطگیوں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ اس مرتبہ سروے جدید موبائل ایپ کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ سابقہ کانتراج کمیشن کے دوران سروے 54 سوالات پر مشتمل دستی طریقے سے کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ تلنگانہ میں کی گئی سماجی و تعلیمی مردم شماری کے ماڈل کا جائزہ لے کر اس سے سیکھنے کی کوشش کی جائے۔ اس سروے کے لیے 1.65 لاکھ عملہ درکار ہوگا، جس میں اساتذہ، دیگر سرکاری ملازمین اور متعلقہ محکموں کا تعاون لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، ایک اعلیٰ سطحی نگرانی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی، جو پوری مردم شماری پر نگاہ رکھے گی۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام سرکاری محکمے اس سروے کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں، اور خاص طور پر بنگلور شہر میں خصوصی منصوبہ بندی کے تحت درست اعداد و شمار جمع کیے جائیں تاکہ شہری علاقوں میں ممکنہ دشواریوں پر قابو پایا جا سکے۔

اس اہم اجلاس میں ریاستی وزیر شیوراج تنگڈگی، پسماندہ طبقات کمیشن کے صدر مدھوسودھن آر نائک، چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش، وزیر اعلیٰ کے قانونی مشیر پوننا اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران موجود تھے۔


Share: