ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / زمین منتقلی کا عمل شفاف اور قانونی دائرے میں جاری ہے: وزیر مالگزاری کرشنا بائرے گوڈا

زمین منتقلی کا عمل شفاف اور قانونی دائرے میں جاری ہے: وزیر مالگزاری کرشنا بائرے گوڈا

Mon, 18 Aug 2025 19:29:20    S O News
زمین منتقلی کا عمل شفاف اور قانونی دائرے میں جاری ہے: وزیر مالگزاری کرشنا بائرے گوڈا

بنگلورو، 18 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی): ریاستی وزیر برائے مالگزاری کرشنا بائرے گوڈا نے اسمبلی اجلاس میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر حکم اراضی (Unauthorised Land Applications) کے سلسلے میں نہ حکومت اور نہ ہی افسران کی جانب سے کوئی غیر قانونی عمل ہوا ہے، پورا عمل قانون کے مطابق شفاف انداز میں جاری ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ اگر کسی کسان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو وہ براہِ راست انہیں مطلع کریں، اس مسئلہ کا حل لازماً نکالا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ’’اگر کبھی غلطی سے کسی مستحق کسان کو نقصان پہنچا ہے تو اراکین اسمبلی براہ کرم مجھے آگاہ کریں، میں فوری طور پر اصلاح کروں گا۔‘‘

جے ڈی ایس رکن ایم ٹی کرشنپا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کرشنا بائرے گوڈا نے واضح کیا کہ بغیر حکم کمیٹی کے سامنے صرف اہل درخواستیں ہی پیش کی جاتی ہیں جبکہ نااہل درخواستوں کو ابتدائی مرحلے میں ہی مسترد کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک موصولہ درخواستوں میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو زمین کے حقیقی مستحق نہیں ہیں۔

وزیر موصوف کے مطابق غیر مستحق درخواست گزاروں میں 5 ایکڑ سے زائد زمین رکھنے والے 7,564 افراد، سڑک اور سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والے 33,632 افراد، جنگلاتی زمین پر دعویٰ کرنے والے 1,00,565 افراد، شہری و بلدی حدود میں زمین کے دعوے دار 69,850 افراد، دوسرے تعلقہ میں رہنے والے 1,620 افراد، کسان نہ ہوتے ہوئے زمین کی درخواست کرنے والے 13,488 افراد، زمین پر قبضہ نہ رکھنے والے 44,517 افراد، امروت محل کاول زمین کے دعوے دار 13,488 افراد اور جھیل (تالاب) کی زمین پر حق جتانے والے 3,040 افراد شامل ہیں۔

کرشنا بائرے گوڈا نے مزید کہا کہ کئی ’’پڈا‘‘ (چھوڑی ہوئی) زمینیں پہلے ہی عوامی مفاد کے تحت مختص کی جاچکی ہیں، جنہیں سرکاری دفاتر، جنگلات اور شمشان گھاٹ کے لیے الاٹ کیا گیا ہے۔ اس لیے اب یہ ضروری ہے کہ تمام درخواستوں پر تفصیلی تحقیق کے بعد ہی زمین کو اصل کسانوں کے نام پر منتقل کیا جائے۔ بصورت دیگر مستقبل میں یہ مسئلہ مزید سنگین رخ اختیار کرسکتا ہے۔


Share: