منگلورو 9 / جون (ایس او نیوز) مرکزی وزارت داخلہ نے شہر میں ہوئے ہندوتوا وادی راوڈی شیٹر سُہاس شیٹی قتل کی تحقیقات نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کی ہے۔

مرکزی حکومت کا یہ اقدام سیاسی طور پر ریاستی کانگریسی حکومت کے لئے ایک دھچکا مانا جا رہا ہے، کیونکہ بی جے پی اور ہندوتوا وادی تنظیموں کی طرف سے ہو رہے مرکزی تحقیقاتی ایجنسی سے تحقیقات کے مطالبے کو ریاستی حکومت نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ ریاستی پولیس اس معاملے کی تفتیش کے لئے پوری طرح اہل ہے ۔
مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ قتل کی جو واردات ہوئی ہے وہ این آئی اے ایکٹ 2008 کے جرائم کے شیڈول میں آتی ہے، جس کے قومی سطح پر اثرات اور اس کے پس پردہ کسی بڑی سازش ہونے کے تعلق سے تفتیش این آئی اے کی ذریعے کروانا ضروری ہے ۔ "لہٰذا این آئی اے قانون کی شق (5) اور دفعہ 6 کے تحت مرکزی حکومت کو حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس قتل کی تحقیقات نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کی جاتی ہے ۔"
خیال رہے کہ دو قتل کی واردات اور دیگر جرائم کا ملزم سُہاس شیٹی جب یکم مئی کو کار میں سفر کر رہا تھا تو منگلورو شہر کے بجپے علاقے میں دن دھاڑے اسے قتل کر دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد ریاستی پولس نے بی این ایس قانون کی مختلف دفعات کے علاوہ آرمس ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرنے کے ساتھ 12 ملزمین کو گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد میں عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ۔
اب اس کیس کی دوسرے زاویے سے تفتیش کے لئے مرکزی وزارت داخلہ نے معاملہ این آئی اے کے حوالے کرنے کا جو حکم جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یہ عوام کے دلوں میں دہشت پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کو ہدف بنا کر کھلے عام قتل کرنے (ٹارگیٹ کِلّنگ) کا معاملہ ہے، اور اس میں ملوث افراد ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے اراکین ہیں اس لئے اس جرم پر یو اے (پی) ایکٹ 1967 کی مختلف دفعات کا اطلاق ہوتا ہے ۔
بی جے پی سے دکشن کنڑا کے رکن پارلیمان کیپٹن برجیش چوتا نے اس معاملہ کی تفتیش این آئی اے کے حوالے کرنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ یاد رہے کہ کیپٹن چوتا نے قتل کی واردات کے فوراْ بعد امت شاہ کو مراسلہ بھیج کر این آئی اے کے ذریعے تفتیش کا مطالبہ کیا تھا ۔ چوتا نے اپنے مراسلے پی ایف آئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک دشمن قوتوں کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لئے این آئی اے کے ذریعے تحقیقات ضروری ہے جو، اب ایس ڈی پی کی شکل میں متحرک ہیں ۔
ریاستی وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے سُہاس شیٹی قتل معاملے میں سامنے آئی ہوئی نئی صورتحال کے تعلق سے صرف اتنا کہا کہ وہ اس تعلق سے ایڈوکیٹ جنرل سے بات کریں گے۔