اوسلو / کراکاس، 10 اکتوبر (ایس او نیوز): دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہونے والا نوبل امن انعام 2025 اس بار وینزویلا کی جمہوریت نواز رہنما ماریا کورینا مچاڈو کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جنہوں نے ملک میں جمہوریت اور شہری آزادیوں کے لیے دہائیوں تک جدوجہد جاری رکھی۔ ناروے کی نوبل کمیٹی نے ماچاڈو کو "لاطینی امریکہ میں شہری جرات کی سب سے غیر معمولی مثالوں میں سے ایک" قرار دیتے ہوئے جمعہ کے روز نوبل امن انعام سے نوازنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نوبل انعام حاصل کرنے کا خواب بھی ادھورا رہ گیا، اور وہ اس عالمی اعزاز کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
کمیٹی کے مطابق مچاڈو کو وینیزویلا میں "جمہوری تحریک کی رہنما" اور "آمریت سے جمہوریت کی طرف پرامن اور منصفانہ منتقلی کی کوششوں" کے لئے اس اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔
ایک زمانے میں لاطینی امریکہ کی مستحکم جمہوریت تصور کیا جانے والا وینیزویلا گزشتہ دو دہائیوں میں آمریت میں تبدیل ہو گیا۔ ہیگو شاویز کے 1999 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد، اور پھر نکولس مادورو کے 2013 میں صدر بننے پر، ملک کے ادارے بتدریج کمزور ہوتے گئے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات، جن میں مادورو نے کامیابی کا دعویٰ کیا، بین الاقوامی سطح پر دھاندلی زدہ قرار دیے گئے، جبکہ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں، بشمول مچاڈو، کو انتخابی دوڑ سے باہر کر دیا گیا تھا۔
1967 میں کراکاس میں پیدا ہونے والی ماچاڈو ایک متمول صنعتی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے صنعتی انجینئرنگ اور فنانس میں تعلیم حاصل کی اور 1992 میں اتی نیّا فاؤنڈیشن قائم کی جو گلیوں میں رہنے والے بچوں کی فلاح کے لیے کام کرتی ہے۔ بعد ازاں 2002 میں انہوں نے سوماتے (Súmate) کے نام سے ایک شہری تنظیم بنائی جو انتخابات کی نگرانی اور شہری شمولیت کو فروغ دیتی ہے۔ 2004 میں شاویز کے خلاف ری کال ریفرنڈم کی مہم نے انہیں قومی سطح پر نمایاں کر دیا، مگر حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگانے پر انہیں بغاوت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
مسلسل دھمکیوں، مقدمات اور پابندیوں کے باوجود مچاڈو نے عدم تشدد کے راستے کو اپنائے رکھا اور ان کا نعرہ "بیلٹس، گولیوں پر ترجیح" (Ballots over Bullets) ملک گیر شہرت حاصل کر گیا۔ انہوں نے جلاوطنی سے انکار کرتے ہوئے عوام کے درمیان رہ کر آمریت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی، جس سے وہ وینیزویلا میں جمہوری مزاحمت کی علامت بن گئیں۔
اگرچہ 2024 کے انتخابات میں انہیں حصہ لینے سے روکا گیا، لیکن انہوں نے اپوزیشن کی مہم کی قیادت کی جس نے لاکھوں عوام کو متحرک کیا۔ نوبل کمیٹی کے مطابق ان کی قیادت میں شہریوں نے "پولنگ اسٹیشنوں پر پہرہ دیا اور ووٹوں کی نگرانی کی، باوجود اس کے کہ انہیں گرفتاری اور تشدد کے خطرات لاحق تھے۔"
مادورو کے دور حکومت میں وینیزویلا شدید معاشی بحران، بدعنوانی اور غربت کا شکار رہا ہے، لیکن مچاڈو کی پرامن جمہوری تحریک آج بھی عوام کے لیے امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے۔
نوبل انعام کے اعلان کے بعدمچاڈونے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اعزاز "ان تمام وینیزویلین عوام کے نام ہے جو آزادی، امن اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔"
نوبل امن انعام کی تقریب اس دسمبر اوسلو میں منعقد ہوگی، جہاں امکان ہے کہ سیاسی حالات کے باعث ماچاڈو بذاتِ خود شریک نہ ہو سکیں اور ان کی نمائندگی کسی اور کے ذریعے کی جائے گی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وینیزویلین شہری کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا ہے۔