ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ایران میں احتجاجی بحران سنگین، 12 ہزار اموات کا دعویٰ، 300 لاشوں کی اجتماعی تدفین

ایران میں احتجاجی بحران سنگین، 12 ہزار اموات کا دعویٰ، 300 لاشوں کی اجتماعی تدفین

Thu, 15 Jan 2026 11:43:27    S O News

تہران، 15/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی) ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا دور جاری ہے۔ بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں، لیکن حقیقی تعداد ابھی تک سامنے نہیں آ پائی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں ہزاروں اموات کا دعویٰ ضرور کیا جا رہا ہے، حالانکہ کچھ بھی مصدقہ طور پر نہیں ہے۔ اموات سے متعلق تازہ دعویٰ ایک ایرانی نیوز ویب سائٹ نے کیا ہے، جس کے مطابق پُرتشدد مظاہروں میں تقریباً 12 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اس درمیان سینکڑوں لاشوں کی اجتماعی تدفین جلد کیے جانے کی رپورٹ بھی سامنے آ رہی ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دی گارجین‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بدھ کی شام 300 لاشوں کی اجتماعی تدفین ہوگی۔ یہ بھی مطلع کیا گیا ہے کہ جن لاشوں کی تدفین ہوگی، ان میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اہلکار کی لاشیں بھی شامل ہوں گی۔ یہ عمل سخت سیکورٹی کے درمیان تہران یونیورسٹی کیمپس میں انجام دیا جا سکتا ہے۔

احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر نظر رکھنے والے امریکی ادارہ ’ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ نیوز ایجنسی‘ نے بتایا کہ اب تک 2550 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 2403 مظاہرین اور 147 حکومت سے منسلک لوگ شامل ہیں۔ حالانکہ ایران سے متعلق معاملوں کا احاطہ کرنے والی ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں کم از کم 12 ہزار لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ بیشتر لوگ گولی لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

26 سالہ ایک شخص کو آج (بدھ) ہی پھانسی پر چڑھائے جانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس نوجوان کا نام عرفان سلطانی ہے۔ ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق انھیں 8 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 11 جنوری کو انھیں موت کی سزا سنائی گئی، اور اب پھانسی دینے کی تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ عرفان سلطانی پر تشدد پھیلانے اور ’خدا کے خلاف جنگ شروع کرنے‘ جیسا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں مزید کوئی ٹرائل نہیں ہوگا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اہل خانہ کو محض 10 منٹ کے لیے آخری ملاقات کا موقع دیا جائے گا۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایران میں تشدد اپنے 18ویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ ان مظاہروں کا اثر عالمی سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے تو 13 جنوری کو ایک بیان میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایران میں اگر افسران حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے لوگوں کو پھانسی دینا شروع کرتے ہیں، تو امریکہ سخت جواب دے گا۔ اس کے جواب میں ایران کے قومی تحفظ کے سبراہ علی لاریزانی نے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایران میں لوگوں کا قاتل بتایا۔

بہرحال، ایران میں پرتشدد مظاہروں کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند نے بدھ کے روز شہریوں کے لیے نئی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو بھی ہندوستانی شہری، چاہے وہ طالب علم ہوں، سیاح ہوں یا تاجر ہوں، اس وقت ایران میں ہیں تو انھیں جلد از جلد وہاں سے نکل جانا چاہیے۔ اس ایڈوائزری میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ تازہ ہدایات 5 جنوری کو جاری ایڈوائزری کا ہی سلسلہ ہے، اور ایران میں بدلے حالات کو دیکھتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی دہرایا کہ سبھی ہندوستانی شہریوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ انھیں احتجاجی مظاہرہ یا بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے دور رہنا چاہیے۔


Share: