بنگلورو 17/اکتوبر (ایس او نیوز): کرناٹک کی سدارامیا حکومت نے ریاست میں سرکاری اسکولوں، کالجوں، سرکاری دفاتر، سرکاری زیر ملکیت اداروں، امداد یافتہ تنظیموں، مذہبی مقامات اور عوامی مقامات پر کسی بھی قسم کی سرگرمی یا پروگرام کے انعقاد کے لیے پیشگی اجازت کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ جمعرات کو وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں یہ اہم فیصلہ لیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم بچوں کے مفاد اور سرکاری اداروں کی غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اسے آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر لگام لگانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سدارامیا حکومت نے یہ فیصلہ بی جے پی حکومت کے اُس 2013 کے حکم نامے کی بنیاد پر لیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کے میدان تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ کسی دوسری سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ اسی پُرانے حکم نامے کو بنیاد بنا کر موجودہ حکومت نے ایک نیا ضابطہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کے بعد آر ایس ایس سمیت کسی بھی تنظیم کو سرکاری احاطے میں کسی قسم کا پروگرام منعقد کرنے کے لیے حکومت سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔ اس سے سرکاری اداروں میں غیر سیاسی و غیر نظریاتی ماحول برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ریاستی وزیر تعلیم مدھو بنگارپا نے بتایا کہ والدین اور طلبہ کی جانب سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض تنظیمیں تعلیمی اداروں میں نظریاتی رجحان پیدا کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسکولوں میں صرف وہی سرگرمیاں ہوں گی جو بچوں کے تعلیمی اور اخلاقی مفاد میں ہوں۔
دوسری جانب وزیر پرینکا کھرضقگے نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کو ایک خط لکھ کر شکایت کی تھی کہ بعض سرکاری افسران آر ایس ایس کے پروگراموں میں حصہ لے رہے ہیں اور حکومت کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے افسروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل کرناٹک سول سروس کنڈکٹ رولز 2021 کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کو سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنا لازم ہے۔
پرینکا کھرگے نے مزید کہا کہ ان کے محکمے کے متعدد افسران آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں شریک ہوئے ہیں، جنہیں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور جلد ہی ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری عہدیداروں کا کسی نظریاتی تنظیم سے وابستہ ہونا یا ایسے پروگراموں میں شریک ہونا ناقابلِ قبول ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سدارامیا حکومت نے یہ قدم بڑی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ اٹھایا ہے۔ ایک طرف حکومت نے بی جے پی کے ہی پُرانے حکم نامے کا حوالہ دے کر اپنا فیصلہ قانونی طور پر مضبوط بنایا ہے، تو دوسری طرف آر ایس ایس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا راستہ بھی ہموار کیا ہے۔
یہ فیصلہ ریاست کی سیاست میں ایک نیا باب کھولنے والا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ بی جے پی نے اسے کانگریس کی انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے شدید مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ تاہم سدارامیا حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف سرکاری اداروں کی غیر سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ کسی تنظیم کو نشانہ بنانا۔