بنگلورو، 4 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی)ریاست میں متوقع ٹرانسپورٹ ہڑتال کے پیش نظر وزیراعلیٰ سدارامیا نے ہفتہ کے روز ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں کرناٹک کی مختلف روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشنز کی مزدور تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں تنخواہوں میں نظرثانی، بقایاجات کی ادائیگی اور ہڑتال کی اپیل جیسے حساس موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے مزدور تنظیموں سے پر زور اپیل کی کہ وہ 5 اگست کے لیے دی گئی ہڑتال کی کال واپس لیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے دورِ حکومت میں مزدور تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے ہیں، اور اس بار بھی افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2016 میں ان کی حکومت نے ٹرانسپورٹ ملازمین کی تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ کیا تھا، جب کہ کووڈ کے دوران 2020 میں سابقہ حکومت نے مالی مشکلات کے باعث تنخواہوں پر نظرثانی نہیں کی۔ بعد ازاں مارچ 2023 میں سابق حکومت نے بنیادی تنخواہ میں 15 فیصد اضافے کا معاہدہ کیا، جسے مزدور تنظیموں نے اس وقت تسلیم بھی کیا تھا۔
سدارامیا نے اجلاس میں مزید کہا کہ حکومت نے سرینواس مورتی کمیٹی کی سفارشات کو قبول کر لیا ہے، جس میں یکم جنوری 2022 سے 28 فروری 2023 تک کے بقایاجات کی ادائیگی کی سفارش کی گئی تھی۔ اس کے باوجود بعض تنظیمیں 38 ماہ کے بقایا جات کا مطالبہ کر رہی ہیں، جسے وزیراعلیٰ نے غیر مناسب قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا، اس وقت ٹرانسپورٹ کارپوریشنز پر تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کا قرض تھا، جب کہ 2018 میں یہ رقم صرف 14 کروڑ روپے تھی۔ اس لیے حکومت مالی توازن قائم رکھتے ہوئے ہی فیصلے لے سکتی ہے۔ انہوں نے تمام تنظیموں سے انصاف، تحمل اور تعاون کی اپیل کی۔
اس اجلاس میں وزیر ٹرانسپورٹ رام لنگا ریڈی، وزیراعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیر احمد، ریاستی چیف سکریٹری شالنی رجنیش، کے ایس آر ٹی سی کے چیئرمین ایس آر سرینواس، این ڈبلیو کے ایس آر ٹی سی کے چیئرمین راجو کاگے، اور مختلف ٹرانسپورٹ مزدور تنظیموں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔