بنگلورو، 7 /اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں منعقدہ کرناٹک کابینہ کے اجلاس میں آج کئی اہم اور عوامی فلاحی فیصلے منظور کیے گئے۔ ان میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے رعایت، غریب طلبہ کے لیے ہاسٹل، صحت کے شعبے میں نئے اسپتال اور نرسنگ کالجوں کا قیام، آبی و آبپاشی منصوبوں پر بھاری رقم کی منظوری اور شہری منصوبہ بندی سے متعلق ترمیمی بل شامل ہیں۔
کابینہ اجلاس کے بعد وزیر قانون و پارلیمانی امور ایچ کے پاٹل نے اخباری نمائندوں کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیتی اداروں سے متعلق تعلیمی ضابطے میں ترمیم کی گئی ہے۔ پہلے اقلیتی تعلیمی اداروں (غیر مسلم جیسے جین، عیسائی، سکھ، بودھ) کو اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے لیے لازمی تھا کہ وہاں کم از کم 50 فیصد طلبہ متعلقہ اقلیت سے ہوں، مگر اب یہ شرط ہٹا دی گئی ہے، جس سے اقلیتی اداروں کو زیادہ سہولت کے ساتھ سرکاری منظوری حاصل ہو سکے گی۔
اسی طرح اقلیتی طالبات کی اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ریاست بھر میں 15 نئے خواتین ہاسٹلس تعمیر کیے جائیں گے، جس پر تقریباً 87.60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
کابینہ نے ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے ذریعے تمام شہریوں کی سماجی و تعلیمی حیثیت کے ڈیجیٹل سروے کی بھی منظوری دی ہے۔ اس سروے کے لیے آدھار کی تصدیق لازمی ہوگی اور ووٹر لسٹ سے معلومات کا استعمال کیا جائے گا۔ سروے کی طرز سابق جسٹس ناگموہن داس کی قیادت میں پیش کردہ ایس سی ریزرویشن رپورٹ کی طرح ہوگی۔
صحت کے شعبے میں ترقی کے تحت کابینہ نے بیلگاوی ضلع کے کتور علاقے میں 100 بستروں پر مشتمل تعلقہ اسپتال کی تعمیر کے لیے 33.78 کروڑ روپے منظور کیے ہیں، جبکہ چتردرگہ کے مولکالمورو تعلقہ اسپتال کو 200 بستروں تک اپ گریڈ کر کے ضلعی اسپتال بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں یلا بورگہ، جیورگی اور یادگیر میں بی ایس سی نرسنگ کالجوں کے قیام کے لیے 41.91 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔
آبپاشی کے منصوبوں میں ہاوری ضلع میں وردا ندی پروجیکٹ کے تحت 111 جھیلوں کو پانی فراہم کرنے کی اسکیم کے لیے 220 کروڑ روپے، باگلکوٹ کے سکنادگی آبپاشی منصوبہ کے لیے 17 کروڑ روپے (588 ہیکٹر اراضی کی سیرابی کے لیے)، اور بیلگاوی کے رام درگ میں 8 جھیلوں کو پانی فراہم کرنے کی اسکیم کو بھی منظوری دی گئی ہے۔
شہری ترقی سے متعلق کابینہ نے فیصلہ کیا کہ تلکاڈو کو نئی ٹاؤن پنچایت کا درجہ دیا جائے گا، جس کے لیے بی شیٹہ ہلی اور کووربالن ہنڈی کے گاؤں کو اس میں ضم کیا جائے گا۔
مزید برآں، گریٹر بنگلورو کی بہتر نگرانی کے لیے "بنگلورو میٹروپولیٹن ایڈمنسٹریشن ایکٹ" میں ترمیم لاتے ہوئے ایک نیا ترمیمی بل لایا جائے گا، اور شہری منصوبہ بندی کے لیے علیحدہ کمشنریٹ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
کابینہ نے متعدد اہم قوانین میں ترامیم کو بھی منظوری دی، جن میں "کرناٹک دیوداسی انسداد بل 2025"، "کرناٹک لازمی خدمات ترمیمی بل 2025"، "کرناٹک سوسائٹی ایکٹ"، "کوآپریٹو سوسائٹی ایکٹ"، "میونسپل ایکٹ"، "پورٹ فیس ایکٹ"، "سیول لٹیگیشن مینجمنٹ ایکٹ"، "ٹورازم ٹریڈ بل"، اور "رجسٹریشن ایکٹ" شامل ہیں۔
آخر میں کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ریاست میں پسماندہ طبقات کے اندرونی ریزرویشن سے متعلق جسٹس ناگ موہن داس کمیشن کی رپورٹ پر غور کرنے کے لیے 16 اگست کو ایک خصوصی کابینہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں رپورٹ پر حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔