بنگلورو، 23 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک اسمبلی کا ساتواں اجلاس 10 اگست سے شروع ہو کر 22 اگست 2025 کو اختتام پذیر ہوا۔ اسپیکر یو ٹی قادر نے بتایا کہ یہ اجلاس کل 9 دن تک جاری رہا اور اس دوران تقریباً 71 گھنٹے 2 منٹ کارروائی ہوئی۔
اجلاس کے آغاز میں ایوان نے حالیہ دنوں میں وفات پانے والی ممتاز شخصیات، آر سی بی جشن کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد، پہلگام دہشت گرد حملے کے شہداء اور ایئر انڈیا حادثے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اس دوران گزشتہ اجلاس میں 18 بی جے پی ارکان اسمبلی کی 6 ماہ کی معطلی کے فیصلے کو واپس لینے کی منظوری دی گئی۔ صدر جمہوریہ اور گورنر کی جانب سے دستخط شدہ بلوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے ضمنی بجٹ کے پہلے حصے کی منظوری بھی دی گئی۔ مختلف کمیٹیوں کے لیے اراکین کی نامزدگی بھی عمل میں لائی گئی۔
اسپیکر کے مطابق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی 6 اہم رپورٹس ایوان میں رکھی گئیں، جن میں ریاستی مالیاتی جائزہ، پنچایت راج و شہری اداروں کی کارکردگی اور تعمیراتی مزدوروں کی فلاحی اسکیموں پر رپورٹس شامل ہیں۔
اجلاس میں کل 39 بل پیش کیے گئے جن میں سے 37 بل منظور ہوئے۔ ’’کرناٹک عوامی ہجوم کنٹرول بل 2025‘‘ اور ’’کرناٹک لینڈ ریونیو (ترمیمی) بل 2025‘‘ کو مزید جانچ کے لیے کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ اسی طرح 2024 میں پیش کیے گئے بعض بل، مثلاً ’’کرناٹک کوآپریٹو سوسائٹی ترمیمی بل‘‘ اور ’’کرناٹک سوہاردا کوآپریٹو ترمیمی بل‘‘ واپس لے لیے گئے۔
اجلاس کے دوران 2306 سوالات موصول ہوئے جن میں سے 2199 منظور ہوئے۔ وزراء نے تحریری و زبانی جوابات ایوان میں پیش کیے۔ 220 نوٹسز میں سے 180 کارروائی میں شامل ہوئیں اور 90 کے جوابات دیے گئے۔ 383 توجہ دلاؤ نوٹسز میں سے 178 پر کارروائی ہوئی، جبکہ زیرو آور میں 13 مسائل پر بحث کی گئی۔ ایک استحقاق نوٹس مزید تحقیقات کے لیے کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔
21 اگست کو ایوان نے متفقہ طور پر دو اہم قراردادیں بھی منظور کیں:
1. امن اور جنگ بندی سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی مکمل حمایت۔
2. ’’انسانی اعضاء کی پیوندکاری (ترمیمی) ایکٹ 2011‘‘ کو ریاست میں نافذ کرنے کی منظوری۔
اسپیکر یو ٹی قادر نے اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، قائد حزب اختلاف، وزراء، اراکین اسمبلی، میڈیا نمائندگان اور اسمبلی عملے کا شکریہ ادا کیا اور ریاست کے عوام کو گوری-گنیش تہوار کی مبارکباد پیش کی۔ بعد ازاں ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔