بنگلورو، 17 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں آج ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں ریاستی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (ایس سی/ایس ٹی) کی ترقیاتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں ایس سی ایس ٹی اسپیشل کامپوننٹ پلان (SCP/TSP) کے تحت 38,793 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 38,717 کروڑ روپے خرچ کر کے 97 فیصد تک پیش رفت درج کی گئی۔ تاہم مرکز کی طرف سے 880 کروڑ روپے اب تک جاری نہیں کیے گئے ہیں، اس سلسلے میں فوری کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ قانون کے مطابق ہر سال کم از کم 24.1 فیصد فنڈ مختص کرنا ضروری ہے، لیکن بعض برسوں میں یہ شرح پوری نہیں ہو سکی۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران اس مد میں تقریباً 2.97 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے، اس کے باوجود درج فہرست ذاتوں اور قبائل کی سماجی، تعلیمی اور معاشی حالت میں مطلوبہ تبدیلی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فنڈز کے مؤثر استعمال میں کوتاہی برتنے والے محکموں اور افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ عملی اور نتیجہ خیز منصوبے تیار کریں تاکہ درج فہرست طبقات کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی یقینی بنائی جا سکے اور فنڈز کا سو فیصد استعمال کیا جا سکے۔
اجلاس میں "دیوداسی نظام" کے مکمل خاتمے پر بھی زور دیا گیا۔ ستمبر کے پہلے ہفتے سے دیوداسی خواتین کی بازآبادکاری کے لیے نئی سروے مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر اس فرسودہ رواج کے آثار آج بھی باقی ہیں تو یہ ہم سب کے لیے باعث شرم ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ اس نظام کے خاتمے کے لیے سخت قانون سازی کی جائے اور خاطیوں کو سزا دی جائے۔
اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، وزراء ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا، پریانک کھڑگے، ڈاکٹر ایم سی سدھاکر، ستیش جارکیہولی اور چیف سکریٹری شالنی رجنیش سمیت کئی اعلیٰ افسران موجود تھے۔