کرناٹک کی ریاستی سیاست میں حالیہ دنوں جو صورتِ حال سامنے آئی ہے، اس نے جمہوری اداروں کی سنجیدگی، عوامی نمائندگی کے معیار اور اقتدار کی ترجیحات پر ایک سنجیدہ اور ناگزیر بحث چھیڑ دی ہے۔ ریاستی اسمبلی میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ٹکٹوں کی فراہمی کا معاملہ جس انداز میں اٹھایا گیا، وہ محض ایک رسمی مطالبہ نہیں بلکہ ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں عوامی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور نمائندوں کی ترجیحات ایک مختلف رخ اختیار کر لیتی ہیں۔
بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کے اندر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اجتماعی طور پر آئی پی ایل میچوں کے ٹکٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد حکومت نے ارکانِ اسمبلی اور کونسل کے لیے آئی پی ایل کے میچوں کے لیے تین ٹکٹ اور بین الاقوامی میچوں کے لیے دو ٹکٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پیش رفت کی خاص بات یہ رہی کہ اس معاملے میں حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا، بلکہ ذاتی سہولت کے اس موضوع پر ایک غیر اعلانیہ اتفاقِ رائے کی فضا دکھائی دی۔
یہاں بنیادی سوال ٹکٹوں کی تعداد یا ان کی تقسیم کا نہیں، بلکہ اس طرزِ عمل کا ہے جس کے تحت ایک تفریحی سرگرمی کو ایوان کے ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا۔ جمہوری ادارے دراصل عوامی مسائل کے حل، پالیسی سازی اور حکومتی کارکردگی کے احتساب کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ مگر جب انہی اداروں میں ذاتی یا محدود مفاد سے جڑے معاملات کو اس شدت کے ساتھ اٹھایا جائے، تو یہ جمہوری ترجیحات کے عدم توازن کی واضح علامت بن جاتی ہے۔
ریاست اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے، وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ زرعی شعبہ بڑھتی لاگت اور وسائل کی قلت سے پریشان ہے، شہری طبقات مہنگائی اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہیں، جبکہ بے روزگاری ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں عوام بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے ان مسائل کو ایوان میں سنجیدگی سے اٹھائیں گے۔ لیکن جب اسی ایوان میں آئی پی ایل جیسے تجارتی و تفریحی ایونٹ کے ٹکٹ موضوعِ بحث بن جائیں، تو یہ صورتِ حال عوامی احساسات سے عدم مطابقت کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ معاملہ گزشتہ برس بنگلور کے چناسوامی اسٹیڈیم میں پیش آنے والے المناک سانحے کے تناظر میں اور بھی زیادہ حساس ہو جاتا ہے، جہاں آئی پی ایل میں آر سی بی کی جیت کے جشن کے دوران بھگدڑ مچنے سے 11 بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یہ واقعہ نہ صرف انتظامی ناکامی بلکہ سیاسی غیر ذمہ داری کی ایک تلخ مثال تھا۔ اس کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ حکومت اور عوامی نمائندے آئندہ ایسے مواقع پر زیادہ محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں گے، مگر حالیہ پیش رفت اس کے برعکس ایک مختلف پیغام دیتی ہے۔
حکومت کی جانب سے اگرچہ سکیورٹی کے حوالے سے سخت اقدامات اور شرائط کی بات کی گئی ہے، مگر اسی کے ساتھ منتخب نمائندوں کے لیے خصوصی ٹکٹوں کا بندوبست ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا ترجیحات واقعی عوامی تحفظ اور مفاد کے گرد گھوم رہی ہیں، یا پھر اقتدار کے ساتھ جڑی مراعات زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں؟
آئی پی ایل کا ایک اہم پہلو اس کی تجارتی حیثیت ہے۔ یہ ٹورنامنٹ اب ایک وسیع معاشی سرگرمی بن چکا ہے، جس میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری، اشتہارات، نشریاتی حقوق اور کارپوریٹ مفادات شامل ہیں۔ اس نے کرکٹ کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت ضرور دی ہے، مگر اس کے ساتھ کئی سنجیدہ سوالات بھی جنم لیے ہیں۔ خاص طور پر سٹے بازی اور غیر قانونی بیٹنگ کا بڑھتا رجحان ایک بڑا سماجی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے منفی اثرات مختلف طبقات پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بیٹنگ کے اس رجحان نے نہ صرف کھیل کی شفافیت کو متاثر کیا ہے بلکہ کئی خاندانوں کو مالی اور ذہنی بحران سے دوچار کیا ہے۔ قرض، ذہنی دباؤ اور مایوسی جیسے عوامل نے بعض افراد کو انتہائی قدم اٹھانے پر بھی مجبور کیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ کیا عوامی نمائندوں کو اس نظام کے مراعات یافتہ پہلو سے وابستہ ہونا چاہیے، یا اس کے منفی اثرات کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کرنا چاہیے؟
اس پورے معاملے میں مفادات کے ٹکراؤ کا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب حکومت یا اس کے نمائندے کسی تجارتی ایونٹ سے براہِ راست یا بالواسطہ فائدہ اٹھاتے ہیں، تو شفافیت اور غیر جانب داری پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔ اگر آئی پی ایل منتظمین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کی مفاہمت یا سہولت کا تبادلہ ہوا ہے، تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے آنا ضروری ہیں۔ جمہوریت میں اعتماد کی بنیاد شفافیت اور جوابدہی پر ہوتی ہے، اور ان دونوں کا فقدان شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
اسی کے ساتھ “وی آئی پی کلچر” کا مسئلہ بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ جب منتخب نمائندے خود کو عوام سے بالاتر سمجھتے ہوئے خصوصی سہولتوں کا مطالبہ کرتے ہیں، تو یہ جمہوری مساوات کے اصول کے خلاف جاتا ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کو اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل حل کریں، نہ کہ خود کو مراعات یافتہ طبقے میں شامل کریں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی یا کونسل کا ذاتی طور پر کھیل دیکھنا یا تفریح حاصل کرنا قابلِ اعتراض نہیں، مگر جب اس مقصد کے لیے ایوان کی کارروائی، حکومتی اثر و رسوخ اور اجتماعی دباؤ کا سہارا لیا جائے، تو یہ طرزِ عمل سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جمہوریت میں اختیار اور ذمہ داری کا توازن ہی نظام کی بنیاد ہوتا ہے، اور جب یہ توازن بگڑتا ہے تو اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آئی پی ایل ٹکٹ کا یہ معاملہ محض ایک وقتی تنازع نہیں بلکہ ایک علامت ہے—ایک ایسے رجحان کی علامت، جس میں عوامی مسائل پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں اور نمائندوں کی ترجیحات تبدیل ہوتی نظر آتی ہیں۔ اس صورتِ حال میں ضروری ہے کہ حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ اس معاملے کی وضاحت کرے اور عوامی نمائندے بھی اپنے طرزِ عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔
جمہوریت کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے، اور یہ اعتماد اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب اقتدار کا ہر فیصلہ عوامی مفاد کے تابع ہو۔ اگر ترجیحات ذاتی سہولت کی طرف جھک جائیں، تو نہ صرف اعتماد کمزور ہوتا ہے بلکہ جمہوری نظام کی بنیادیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا اور سنوارنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
( مضمون نگار عبدالحلیم منصور کا شمار کرناٹک کے سنئیر صحافیوں میں ہوتا ہے اور مضمون نگار کے خیالات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)