بنگلورو، 4 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) نامور فلمی اداکارہ اور سابقہ رکن پارلیمنٹ دیویا اسپندنا عرف رمیا کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں دیے جانے اور غیر اخلاقی تبصروں کے معاملے میں بنگلورو پولیس نے اب تک چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی آن لائن ہراسانی، خواتین کی تذلیل اور نفرت آمیز زبان کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔
یہ معاملہ اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب 24 جولائی 2025 کو رینوکا سوامی قتل کیس پر سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی گئی ایک جائزہ رپورٹ کے بعد رمیا نے اپنے انسٹاگرام اور ’ایکس‘ (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹس پر اس کیس سے متعلق کچھ تفصیلات عام کیں۔ رمیا کے سوشل میڈیا پر گیارہ لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔ ان پوسٹس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نازیبا، گالی گلوچ سے بھرے اور دھمکی آمیز تبصرے شروع ہو گئے، جن میں بعض صارفین نے قتل اور جنسی زیادتی کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔
پولیس نے یکم اگست کو دو افراد کو گرفتار کیا، اور 3 اگست کو مزید دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ بنگلورو پولیس کمشنر سیمنت کمار سنگھ کے مطابق آن لائن ہراسانی میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے سائبر کرائم ونگ سرگرمی سے تفتیش کر رہا ہے۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف بدسلوکی، دھمکیاں اور نفرت انگیز زبان برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایسے جرائم انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 اور بی این ایس (بھارت نیائے سنہیتا) کے تحت سنگین نوعیت کے مقدمات تصور کیے جاتے ہیں، جن پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اظہار خیال کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی کی عزت و وقار کو مجروح نہ کریں، خصوصاً خواتین اور عوامی شخصیات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا دھمکی ناقابلِ برداشت ہے۔
بنگلورو پولیس نے یقین دلایا ہے کہ وہ ایک محفوظ اور باعزت ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور اس معاملے میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔