ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / میڈیا میں امبیڈکر کے نظریات کی پامالی ناقابلِ قبول، صحافت کو عوامی مفاد کے لیے ذمہ دار بننا ہوگا: کے۔ وی۔ پربھاکر

میڈیا میں امبیڈکر کے نظریات کی پامالی ناقابلِ قبول، صحافت کو عوامی مفاد کے لیے ذمہ دار بننا ہوگا: کے۔ وی۔ پربھاکر

Sat, 30 Aug 2025 19:28:04    S O News

چترادرگہ، 30 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی): وزیراعلیٰ کے میڈیا مشیر کے۔ وی۔ پربھاکر نے میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے اخبارات اور نیوز چینلز میں ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کے نظریات کی حرمت اور عظمت کو مجروح کیا جا رہا ہے اور ان کا ’’فکری قتل‘‘ انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سیکولرزم، سماجی انصاف اور آزادیٔ اظہار جیسی بنیادی قدروں کو نظرانداز کر رہا ہے جو امبیڈکر کے وژن اور آئین ہند کی روح ہیں۔

پربھاکر جمعہ کو میڈیا اکیڈمی، محکمۂ اطلاعات و رابطہ عامہ اور ایس سی/ایس ٹی ایڈیٹرز ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار *’’میڈیا میں امبیڈکر کا نظریہ‘‘* کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج میڈیا کے بڑے حصے کے پاس تحقیق و تنقید کی طاقت باقی نہیں رہی بلکہ وہ محض اشتعال انگیزی اور سنسنی پھیلانے کا ہتھیار بن چکا ہے۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ملک بھر میں امبیڈکر کے مجسمے تو بڑی تعداد میں نصب کیے جا رہے ہیں مگر ان کے خیالات اور اصولوں کو ختم کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔ ’’آئین میں بار بار تبدیلیاں کرکے جمہوریت، سیکولرزم اور سوشلسٹ اقدار کو کمزور کیا جا رہا ہے، لیکن میڈیا اس پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے،‘‘ پربھاکر نے کہا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے اپنی زندگی کا نصف حصہ صحافت کو دیا اور مختلف اخبارات جیسے موق نایک (1920)، بہشکرت بھارت (1927)، سمتا (1928)، جنٹا (1930) اور پربدھ بھارت (1943) شائع کیے تاکہ محروم طبقات کی آواز بلند ہو۔

پربھاکر نے نشاندہی کی کہ آج میڈیا اداروں میں دلت اور خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے خبریں بھی جانبدارانہ انداز میں پیش کی جاتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ امبیڈکر کے نظریات میڈیا سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ میڈیا کو اپنی روش بدلنی ہوگی اور امبیڈکر کے نظریات کو زندہ کر کے عوامی مفاد کی خدمت کرنی ہوگی، تبھی جمہوریت محفوظ رہ سکے گی۔

اس موقع پر ایم ایل سی نوین نے پروگرام کا افتتاح کیا، میڈیا اکیڈمی کی صدر عائشہ خانم نے صدارت کی جبکہ سینئر صحافی ڈی۔ اماپتی، سیکریٹری سہانا بھٹ، رکن اہوبل پتی اور ایس سی/ایس ٹی ایڈیٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران بھی شریک رہے۔


Share: