ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بیجاپور کے ایم ایل اے یتنال کا متنازعہ بیان : مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والے ہندو نوجوانوں کو 5 لاکھ روپے دینے کا اعلان

بیجاپور کے ایم ایل اے یتنال کا متنازعہ بیان : مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والے ہندو نوجوانوں کو 5 لاکھ روپے دینے کا اعلان

Mon, 11 Aug 2025 11:28:27    S O News

کوپّل ،11 / اگست (ایس او نیوز) اپنے اشتعال انگیز بیانات کے لئے معروف بیجاپور کے ایم ایل اے بسون گوڑا پاٹل یتنال نے پھر ایک بار متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والے ہندو نوجوانوں کو پانچ لاکھ روپے دئے جائیں گے اور اس ضمن میں باقاعدہ مہم چلائے گی ۔ 
    
ایم ایل اے یتنال نے گزشتہ ہفتے کوپّل میں قتل ہوئے گوی سیدپّا نامی نوجوان کے گھر پہنچ کر تعزیت کرنے کے بعد اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہندووں کو قتل کرنے کی ذہنیت مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے ۔ گوی سیدپّا کو مسجد کے سامنے قتل کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر اس قتل کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ۔ ویڈیو کلپ میں قاتل نے تلوار لہرائی ہے ۔ اب چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس لڑکی کو بھی گرفتار کرنا چاہیے ۔ لو جہاد کرنے پر مسلمانوں کو تحفظ ملتا ہے ۔ یہاں صرف مسلمانوں کو ہی تحفظ دیا جاتا ہے۔
    
واضح رہے کہ مبینہ طور پر ایک مسلم لڑکی سے عشق جتانے کے پس منظر میں گوی سیدپّا نائیک نامی ہندو لڑکے کا قتل ہوا تھا ۔ قتل کے الزام میں پولیس نے صادق کولکر، گیسو دراز پٹیل، محمد نظام الدین اور محبوب سکلگار کو گرفتار کیا ہے ۔ قتل کے دن صادق کولکر کی اپنے ہاتھ میں تلوار لہراتی ہوئی ویڈیو کلپ بھی وائرل ہوئی ہے ۔
    
اسی ضمن میں بیجاپور ایم ایل اے بسون گوڑا پاٹل یتنال نے کوپّل میں مزید زہر اگلتے ہوئے کہا کہ ضلع انچارج وزیر کو صرف تعزیت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ متاثرہ خاندان کی مدد کے لئے آگے آنا چاہیے ۔ موجودہ ریاستی حکومت میں ہندووں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے ۔ میں اسمبلی اجلاس میں اس موضوع پر سوال اٹھاوں گا ۔ اس واردات کے سلسلے میں جو احتجاج کیا جا رہا ہے اس میں ہر ایک کو تعاون کرنا چاہیے ۔
    
رکن اسمبلی یتنال نے کہا کہ اس واردات کو بہانہ بنا کر گنیش تہوار کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے ۔ تلواریں لے کر گھومنے پھرنے والوں کو حکومت کی حمایت حاصل ہے ۔ اس قتل کی واردات کے لئے وزیر اعلیٰ سدارامیا کو ریاست کے عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔  مسلمانوں کو مجرم نہ ماننے کے لئے پولیس پر دباو بنا ہوا ہے ۔  یہ سوچ غلط ہے کہ ہندووں کی حمایت میں پس ماندہ طبقات کو نہیں بولنا چاہیے ۔ اگر ایسی ہی قتل کی واردات مسلمان کے ساتھ پیش آئے تو ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے اور پاوں پکڑ لیتے ہیں ۔ اس معاملے میں حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے ۔
    
یتنال نے ہندووں کو ورغلاتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت جو ہے وہ مسلمانوں کی حکومت بن گئی ہے ، لیکن ہندووں کو گھبرانے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔    


Share: