بغداد،10مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عراق کے پرامن اور محفوظ سمجھے جانے والے علاقے داعش کے زیر تسلط آنے کے بعد آفت زدہ قرار دیے جانے لگے ہیں۔ تباہی اور بربادی کی جو مثالیں موصل اور اس کے اطراف کے شہروں میں دیکھنے کو ملتی ہیں وہ کسی اور شہر میں نہیں۔شمالی عراق کے شہر موصل کے جنوب مشرقی محور الخازر میں واقع ’بازکرتان‘ گاؤں کو اکتوبر 2016ء میں شروع کئے گئے آپریشن میں داعش سے چھڑایا گیا تھا۔اس علاقے میں اتحادی فوج کی شدید بمباری کے ساتھ ساتھ کرد فورسز اور داعشی جنگجوؤں کے درمیان گھمسان کی لڑائی لڑی گئی۔ اس لڑائی نے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تاہم اب وہاں پر پائے جانے والے کھنڈرات میں داعش کی جنگ کے لیے کھودی گئی سرنگیں موجود ہیں۔ داعشی جنگجو ان سرنگوں کو کردستان تک رسائی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ان سرنگوں میں داعش خود کش بمباروں کی باقیات، بارودی جیکٹیں اور بارود سے بھری گاڑیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ داعش نے بھرپور جنگی تیاری کررکھی تھی۔
بازکرتان میں لڑائی کا آغاز اسی قصبے کے نام سے قائم اسکول اور جامع الزھراء4 سے ہوا۔ سب سے گھمسان جنگ جامع الزھراء کے قریب لڑی گئی۔ کیونکہ مسجد کے آثار جنگ کی شدت کی گواہی دینے کے لیے کافی ہیں۔ داعشی دہشت گردوں نے اس مسجد کو زیرزمین سرنگوں میں جانے کے لیے راستے اور لڑائی میں ڈھال کے طور پر استعمال کی۔ مسجد کا گولہ باری سے بچ جانے والا حصہ گردو وغبار سے اٹا پڑا ہے۔ ایک ٹوٹی الماری میں قرآن پاک کے چند نسخے بھی موجود ہیں مگر ان پر بھی مٹی کی دبیز تہہ جم چکی ہے۔ مسجد کا صحن ملبے کا ڈھیر ہے مگر یہاں پر داعش کی 600 میٹر پر پھیلی رصدگاہ کی باقیاتی بھی پائی گئی ہیں۔البیشمرکہ فورس کے ایک اہلکار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم کی رہنمائی کی اور بتایا کہ بازکرتان قصبے میں داعشی جنگجوؤں نے بڑی تعداد میں سرنگیں کھود رکھی تھیں۔ جنگجوؤں کی حکمت عملی سے لگتا تھا کہ انہیں سرنگوں پر بہت زیادہ اعتماد اور انحصار ہے۔ ان سرنگوں کو اندر سے سیمٹ سے تیار کیا گیا۔ بعض سرنگیں سطح زمین سے 6 میٹر گہری تھیں۔