ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کرنول میں ہولناک حادثہ: حیدرآباد سے بنگلورو جانے والی پرائیویٹ بس میں آگ لگنے سے 20 مسافر زندہ جل کر ہلاک، کئی زخمی

کرنول میں ہولناک حادثہ: حیدرآباد سے بنگلورو جانے والی پرائیویٹ بس میں آگ لگنے سے 20 مسافر زندہ جل کر ہلاک، کئی زخمی

Fri, 24 Oct 2025 14:03:18    S O News
کرنول میں ہولناک حادثہ: حیدرآباد سے بنگلورو جانے والی پرائیویٹ بس میں آگ لگنے سے 20 مسافر زندہ جل کر ہلاک، کئی زخمی

بینگلور، 24 اکتوبر(ایس او نیوز): آندھرا پردیش کے کرنول ضلع میں جمعہ کی صبح پیش آئے ایک المناک حادثے میں حیدرآباد سے بنگلورو جارہی ایک لگژری پرائیویٹ بس میں اچانک آگ بھڑک اُٹھنے سے کم از کم 20 مسافر زندہ جل کر ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔

یہ حادثہ کرنول ضلع کے چنّا ٹیکورو (Chinnatekuru) گاؤں کے قریب صبح تقریباً 3:30 بجے اُس وقت پیش آیا جب بس مخالف سمت سے آرہی ایک موٹرسائیکل سے ٹکرا گئی۔ ٹکر کے فوراً بعد بس میں آگ بھڑک اُٹھی جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری گاڑی میں پھیل گئی۔

ذرائع کے مطابق، بس میں دو ڈرائیورسمیت کل 43 افراد سوار تھے، جو دیپاولی تہوار منانے کے بعد مختلف کمپنیوں میں ملازمت پر واپس بینگلور لوٹ رہے تھے، جن میں سے کئی لوگ بروقت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے، تاہم 20 مسافر جھلس کر ہلاک ہوگئے، جن میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ موٹرسائیکل سوار بھی موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ حادثے کے وقت بس حیدرآباد سے بنگلورو کی سمت جارہی تھی۔

آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ فائر سروسز کے انچارج ڈائریکٹر جنرل پی. وینکٹا رمنا (P. Venkata Ramana) نے بتایا کہ حادثہ ممکنہ طور پر تیز رفتاری اور ڈرائیور کی لاپرواہی کے سبب پیش آیا۔ ان کے مطابق، واقعہ اُللنداکونڈہ (Ullandakonda) گاؤں کے قریب پیش آیا، جو کرنول شہر سے تقریباً 18 کلومیٹر دور ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر کنٹرول روم سے فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جنہوں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔

بس میں سوار ایک مسافر سوریہ، جو حیدرآباد کا رہائشی ہے اور بنگلورو میں ملازمت کے انٹرویو کے لیے سفر کر رہا تھا، نے بتایا:

“تقریباً 2:45 بجے دھواں اور آگ نظر آئی۔ کہا گیا کہ بس اور بائک کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ بائک بس کے نیچے چلی گئی جس سے چنگاریاں نکلیں اور آگ بھڑک اُٹھی۔ میں کسی طرح نیچے کود کر بچ گیا، لیکن میرے پیر میں معمولی چوٹ آئی۔”

حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر دل دہلا دینے والے مناظر دیکھنے کو ملے۔ بس مکمل طور پر جل کر راکھ بن گئی اور کئی لاشیں شناخت کے قابل نہیں رہیں۔

جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد کرنول کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ تمام نعشوں کو کرنول ضلعی اسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ بچ جانے والے 23 افراد کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے دو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پچاس ہزار روپے کے معاوضے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایکس (X) پر لکھا:

“کرنول ضلع میں پیش آئے اس المناک حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر بے حد افسوس ہے۔ خدا ان متاثرہ خاندانوں کو صبر دے۔”

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے بھی حادثے پر صدمہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے ایکس پر تحریر کیا:

“چنّا ٹیکورو گاؤں کے قریب پیش آئے اس دلخراش بس حادثے کی خبر سن کر شدید دکھ ہوا۔ جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے میری دلی تعزیت ہے۔”

میڈیا رپورٹوں کے مطابق، جیسے ہی بس اور موٹرسائیکل کے درمیان ٹکر ہوئی، موٹرسائیکل سیدھے بس کے اندر جا گھسی۔ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بائک بس کے پٹرول ٹینک سے ٹکرا گئی، اور ٹکر سے پیدا ہونے والی چنگاریوں کے باعث پٹرول ٹینک میں آگ بھڑک اُٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پولیس نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ ہلاک شدگان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کی جارہی ہے۔


Share: